أي من تشبہ نفسہ بالکفار مثلاً فی اللباس وغیرہ أو بالفساق والفجار فہو منہم أي فی الإثم۔ (بذل المجہود ،دارالبشائر الإسلامیہ۱۲/۵۹، سہارن پور قدیم۵/۴۱) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۱۹؍رجب۱۴۲۲ھ
(الف فتویٰ نمبر۳۶/۷۳۲۷)
الجواب صحیح :
احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ
۱۹؍۷؍۱۴۲۲ھ
سہرا باندھنے کی رسم میں شرکت کرنا
سوال ]۷۲۲[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ زید پھولوں کا سہرا باندھنا ناجائز و حرام کہتاہے اور ایسی تقریبوں میں شرکت بھی ناجائز سمجھتاہے ، مگر بکر پھولوں کے سہرے کو درست وجائز بتاتا ہے اور ایسی تقریبوں میں شرکت باعث مسرت اور جائز سمجھتاہے جو سہرے کی تقریبوں میں شریک ہوجاتاہے کیا وہ گنہگار ہوجاتاہے آپ سے عرض ہے کہ عند الشرع مسئلہ کی وضاحت فرماکر خادم کو ممنون ومشکور فرمائیں ۔
المستفتي: محمد یونس قریشی، محلہ: شیخ سرائے، قصبہ: پالی، ضلع: ہردوئی
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:سہرا باندھنا اصالۃً غیرمسلم ہندؤں کی رسم ہے ہندوتاروں کا سہر ا باندھتے ہیں اور مسلمانوں نے پھولوں کا سہرا باندھنا شروع کردیا ہے ، لہذا یہ خلاف شرع ہے ۔(مستفاد:کفایت المفتی ۹/۶۹، بہشتی زیور۶/۲۶)
من تشبہ بقوم فہو منہم۔ ( ابوداؤد شریف ،کتاب اللباس ، باب فی لبس الشہرۃ ، النسخۃ الہندیہ ۲/۵۵۹، داراسلام رقم: ۴۰۳۱، مشکوٰۃ شریف ۲/۳۷۵)
اس قسم کی رسموں میں شرکت ، اعانت علی المعصیت ہونے کی بنا پر ناجائز ہے ۔