دھو لیا جائے یہ محض تقویٰ کی بات ہے۔ اور فتویٰ پاک ہونے کا ہے۔ (منتخب نظام الفتاوی ۱/ ۱۳۳ -۱۳۵)
احقر نے یہ فتویٰ اس زمانہ میں لکھا تھا، جب ’’فتاوی محمودیہ‘‘ مکمل مرتب ہوکر نہیں آئی تھی اور اب ’’فتاوی محمودیہ‘‘ مکمل مرتب ہوکر آچکی ہے، اس میں حضرت کے دو فتوے ہیں ہیں، دونوں میں حضرت نے ڈرائی کلین میں دئے گئے ناپاک کپڑے کے بارے میں وہاں سے دھلنے کے بعد پاک ہونے کا فتویٰ تحریر فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ، ڈابھیل ترتیب جامعہ فاروقیہ کراچی ۵/ ۲۴۷-۲۴۸، فتاوی محمودیہ میرٹھ ۸/ ۲۸۶-۲۸۸)
اور دلائل کی روشنی میں یہی بات زیادہ راجح ہے کہ ڈرائی کلین میں دئے گئے ناپاک کپڑے پاک ہی ہوکر آتے ہیں؛ اس لئے کہ پٹرول سے دھونے میں کپڑوں سے ہر قسم کی نجاست اور دھبے وغیرہ ختم ہوجاتے ہیں، مثلا کپڑے میں ایسے داغ دھبے لگ جائیں جو صابن، صرف اور آلہ وغیرہ سے صاف نہ ہو، وہ پٹرول اور مٹی کے تیل سے آسانی سے صاف ہوجاتے ہیں؛ لہٰذا ڈرائی کلین میں پٹرول سے دھوئے گئے ہر کپڑے پر پاکی کا حکم لگ جائے گا۔ فقط و اللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۲۹؍ رمضان المبارک ۱۴۱۱ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۲۷/ ۲۴۱۴)
نومولود بچہ کی رطوبت اور سر کے بال پاک ہیں یاناپاک؟

سوال ]۱۵۵۲[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ جب بچہ کی ولادت ہوتی ہے تو ماں کے پیٹ سے نکلتے وقت بچہ کے بدن پر جو ماںکے پیٹ کی رطوبت ہوتی ہے وہ پاک ہے یاناپاک؟ نیز نو مولود بچہ کے سر کے بال پاک ہیں یا ناپاک؟ کیوں کہ بچہ کے سر پر بھی ماں کے پیٹ کی رطوبت ہوتی ہے۔
المستفتی: ابوالکلام گڈا، بہار