تنگ، ہر صورت میں اقامت میں بھی اذان کی طرح تحویل مستحب ہے۔ طحطاوی کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:
کان المحل متسعا أو لا بدلیل ما بعد۔ (طحطاوي علی الدر، باب الأذان، کوئٹہ ۱/ ۱۸۵)
شامی کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:
وکذا فیہا مطلقا، أي في الإقامۃ سواء کان المحل متسعا أو لا۔ (شامي، باب الأذان، مطلب في الکلام علی حدیث الأذان جزم، زکریا دیوبند ۲/ ۵۳، کراچی ۱/ ۳۸۷)
امام ابراہیم حلبیؒ نے ’’غنیۃ المستملی شرح کبیری‘‘ میں نقل فرمایا ہے کہ اذان کی طرح اقامت میں بھی تحویل مطلقاً سلف سے توارث اور تواتر کے طور پر ثابت ہے، مکان وسیع ہو یا تنگ اس کی کوئی قید نہیں ہے۔ عبارت ملاحظہ فرمائیے:
ویحول وجہہ یمینا عند حي علی الصلاۃ، وشمالا عند حي علی الفلاح في الأذان، والإقامۃ؛ لأنہ یخاطب بہما الناس، فیواجہہم وہو المتوارث۔ (غنیۃ المستملی شرح کبیري، کتاب الصلوۃ، سنن الصلوۃ، سہیل اکیڈمي لاہور، وأشرفی دیوبند/ ۳۷۴)
اور امام ابراہیم حلبیؒ نے ’’شرح صغیری‘‘ میں بھی اذان کی طرح اقامت میں مطلقاً اثبات تحویل کو لکھا ہے۔ عبارت ملاحظہ فرمائیے:
ویحول وجہہ یمنا عند حي علی الصلاۃ، وشمالا عند حي علی الفلاح في الأذان والإقامۃ۔ (صغیري، مطبع مجتبائی/ ۱۹۶)
قول ۲؎: امام علاء الدین حصکفیؒؒ نے ’’الدرالمختار‘‘ میں دو قول نقل فرمائے ہیں: (۱) اقامت میں تحویل کا حکم اذان کی طرح ہے، چاہے مکان وسیع ہو یا تنگ (۲) اگر مکان وسیع ہے تب اذان کی طرح تحویل کا حکم ہے، اور اگر مکان یا مسجد تنگ ہو تو اذان کی طرح اقامت میں تحویل کا حکم نہیں۔ عبارت ملاظہ فرمائیے: