أن یصلوا بالجماعۃ فوقہ إلا إذا ضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحہ للضرورۃ۔ (ہندیہ ، کتاب الکراہۃ ، آداب المسجد زکریا قدیم ۵/۳۲۲ ، جدید۵/۳۷۲) فقط والله سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۲۹؍۶؍۱۴۱۷ھ
(الف فتویٰ نمبر:۳۲/۴۹۲۸)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۲۹؍۶؍۱۴۱۷ھ
گرمی کی وجہ سے دوسری منزل میں جماعت کرنا
سوال ]۱۹۹۴[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ مسجد میں جمعہ کی نماز اور پنجوقتہ نمازباجماعت ہوتی ہے ، اور مسجد دومنزلہ ہے تو سخت گرمی کی وجہ سے نیچے کی مسجد یعنی پہلی منزل کو چھوڑ کر کے دوسری منزل پر یعنی مسجد کی چھت پر جماعت کر سکتے ہیں ، یا نہیں ؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نیچے کی مسجد کو چھوڑ کرمسجد کی چھت پر نماز نہیں پڑھ سکتے او رکچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید مجبوری میں کر سکتے ہیں لیکن گرمی کاہونا کوئی مجبوری نہیںہے ، صرف گرمی کی وجہ سے جماعت کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ اس کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل ومدلل جواب جلد ہی تحریر فرمائیں ۔
المستفتي:محمد صلاح الدین قاسمی ، رام نگر بجنور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:پہلی منزل کی طرح دوسری منزل میں بھی جماعت خانہ ہے تو گرمی کی وجہ سے دوسری منزل میں جماعت کرنا بلاکراہت جائز ہے ۔ (مستفاد:امدادالاحکام ۲/۵۴)
قال الزیلعی ولہذا یصح الإقتداء من علیٰ سطح المسجد بمن فیہ۔ (شامی، باب ما یفسد الصلوٰۃ ، مطلب فی أحکام المسجد زکریا۲/۴۲۸، کراچی ۱/۶۵۶)
وإذا صلی فوق المسجد مقتد یا بالإمام أجزأہ۔ (المبسوط للسرخسی ،