والدلیل الثانی لثبوت الدعویٰ الثانی عبارۃ الشامي حیث قال تحت قول الدر المختار ولو لم یتم جاز أي صح مع کراہۃ التحریم کما أفادہ الخ۔ (شامي کراچي ۱/۴۹۶، زکریا دیوبند۲/۲۰۰)
فقولہم: ولو لم یتم جاز معناہ صح مع الکراہۃ التحریمیۃ ویدل علیہ أیضاً تعلیلہم بوجوب التشہد الخ ( شامي کراچي۱/۴۹۶، زکریا دیوبند۲/۲۰۰، ۱/۳۳۴)
میں بھی تشہد پورا کرکے اٹھنے کا فتویٰ موجود ہے، انہی حوا لہ جات پر اکتفاء کرتا ہوں کہ عاقل و ذی فہم کے لئے یہی بہت ہیں۔
اور جناب آئیے! یہ شبہ جو ظاہر فرمایا تھا کہ اتباع امام اور تشہد دونوں واجب ہیں؛ لہٰذا امام ہی کی اتباع کرنی اولیٰ و مختار ہوگی، تو محترم میں یہ عرض کرنے کی جرأت و ہمت کروںگا کہ نماز میں اتباع امام رکن واجب و فرض میں بلا تاخیر کے جبکہ دوسرا فرض یا واجب معارض نہ ہو واجب ہے، اور تعارض کی صورت میں اتمام الواجب الذی ہو فیہ اولیٰ اور افضل ہے؛ اسی وجہ سے اتمام تشہد ہی کو مختار کہا ہے؛ البتہ اگر معارض سنت ہے توامام کی اتباع ضروری اور واجب ہے۔
شامی میں ہے: لأن متابعۃالإمام فی السلام، وإن کانت واجبۃ فلیست بأولی من إتمام الواجب الذی ہو فیہ الخ۔ (شامی نعمانیہ ۱/۳۵۲، کراچی ۱/۵۲۵)
وقال فی موضع آخرالحاصل إن متابعۃ الإمام فی الفرائض والواجبات من غیر تأخیر واجبۃ فإن عارضہا واجب لا ینبغي أن یقوتہ؛ بل یأتي بہ ثم یتابعہ الخ۔ (شامي ۱/ ۳۳۳، کراچی ۱/ ۴۹۶، زکریا دیوبند ۲/۲۰۰)
اور علامہ شامی نے اس کے بعد اس کی علت بھی بیان فرما دی ہے، خود دیکھ لیجئے گا، المختصر مذکورہ بالا عبارات سے مسبوق کے لئے اتمام تشہد کا مختار و اولیٰ ہونا معلوم ہو گیا، کما لا یخفی علی صاحب البصیرۃ والبصارۃ۔