(سنن أبي داؤدشریف، کتاب الصلاۃ، باب التشدید في ذلک، النسخۃ الہندیۃ ۱/۸۴، دارالسلام رقم:۵۷۰، مسند البزار ۵/۴۲۶، رقم:۲۰۶۰، المعجم الکبیر للطبراني ۹/۲۹۵، رقم: ۹۴۸۲، مصنف عبد الرزاق ۳/۱۴۹، رقم: ۵۱۱۶)
ویکرہ حضورہن الجماعۃ، ولو لجمعۃ، وعید، ووعظ مطلقا، ولو عجوزا لیلا علی المذہب المفتی بہ لفساد الزمان۔ (الدر المختار مع شامي، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، زکریا ۲/۳۰۷، کراچي ۱/۵۶۶، البنایہ، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، اشرفیۃ ۲/۳۵۴) فقط والله سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۲۹؍رجب المرجب ۱۴۲۵ھ
(الف فتویٰ نمبر:۳۷ ؍۸۵۱)
حافظہ عورت کا تراویح کی نماز باجماعت پڑھانا

سوال ]۲۶۶۳[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ایک عورت حافظ قرآن ہے تو وہ قرآن یاد رکھنے کی غرض سے رمضان المبارک میں تراویح کی جماعت کر سکتی ہے یا نہیں؟جبکہ مقتدی صرف عورتیں ہوں اور وہاں کوئی مرد موجود نہ ہو۔
(۲) اگر جماعت کرلی تو قرأت بلند آواز سے کرسکتی ہے یانہیں؟ بلند آواز سے قرأت کرنے کی صورت میں نماز فاسد ہوگی یا نہیں؟
(۳) اگر نماز فاسد ہوجاتی ہے تو پڑھی گئی تراویح کی قضا لازم ہے یا نہیں؟
المستفتی: مشرف خاں، بہرائچ (یوپی)
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: (۱) ایسی صورت میں نماز تراریح مکروہ ہوجائے گی بعد میں لوٹانے کی ضرورت نہیں۔