(۲) کیا اس پر پیر پڑنے یا بیٹھنے سے واقعی کعبہ کی بے حرمتی کا مرتکب ہوگا یا نہیں؟
(۳) اسی طرح بعض مصلوں اور چٹائیوں پر بیت المقدس یا مسجد نبوی کی تصویر بنی ہوتی ہے ان کا کیا حکم ہے؟کتاب و سنت کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی: جامع مسجد تکیہ پور، بلڑیاں لکھیم پور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: منقش مصلیٰ جس پر کعبۃ اللہ اور حرمین کا نقشہ ہوتا ہے بہرحال وہ تصویر ہے، کعبۃ اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنا باعث خوش قسمتی اور امر مستحسن ہے تو سوال یہ ہے کہ پیروں کو کہاں رکھ کر نماز پڑھے گا، ظاہر بات ہے کہ پیروں کو عین کعبہ کی زمین پر رکھ کر نماز پڑھی جائیگی، اسی طرح مسجد حرام میں بیٹھنا اور پیروں سے چلنا خلاف ادب نہیں ہے، تو جب عین کعبہ اور عین مسجد حرام میں پیروں سے چلنا اور پیر رکھنا خلاف ادب نہیںتو اس کے فوٹو اور تصویر پر پیر پڑجائے تو کیسے خلاف ادب ہے، یہ محض اپنے خیال کی بات ہے ایسی باتوں کے ذریعہ سے لوگوں کوشکوک و شبہات اور تشویش میں مبتلا نہ کیا جائے، جس کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ہے؛لہٰذا کعبۃ اللہ اور مسجد حرام کے منقش مصلیٰ پر بیٹھنا اور پیر رکھ کر نماز پڑھنا بلا تردد اور بلاکراہت جائز او ردرست ہے، اس میں تمام سوالات کے جوابات آچکے ۔ (مستفاد: فتاوی محمودیہ جدید ۶؍۶۷۰، قدیم ۷؍۱۱، ایضاح المسائل ۱؍۱۳۳، فتاوی رحیمیہ جدید۶؍۳۳، قدیم ۶؍۲۷۴)
أو لغیر ذي روح لایکرہ، لأنہا لاتعبد وخبر جبریل علیہ السلام مخصوص بغیر المہانۃ کما بسطہ ابن الکمال۔ (الدر المختار مع الشامي کراچي،کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ۱؍۶۴۹، زکریا ۲؍۴۱۸، البحر الرائق، کراچي، باب ما یفسد الصلاۃ، ومایکرہ فیہا ۲/۲۷، زکریا ۲/۴۸)
عن سعید بن أبي الحسنؓ قال: جاء رجل إلی إبن عباسؓ،…وقال إن کنت لابد فاعلا فاصنع الشجر ومالانفس لہ۔ (مسلم شریف، باب تحریم تصویر