وإن سلم المسبوق ساہیاً مع إمامہ: أي علی أثر تسلیمتہ الأولیٰ کسائر المقتدین، فإنہ لاسہو علیہ؛ لأنہ مقتدٍ بعد وسہو المقتدي لایوجب السہو۔ (حلبي، کتاب الصلاۃ، فصل في سجود السہو، اشرفیۃ۴۶۵)
ولو سلم ساہیا إن بعد إمامہ لزمہ السہو وإلا لا۔ (تحتہ في الشامیۃ) أي وإن سلم معہ أو قبلہ لایلزمہ؛ لأنہ مقتد في ہاتین الحالتین۔ (شامي، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، قبیل باب الاستخلاف، زکریا ۲؍۳۵۰، کراچي۱/۵۹۹) فقط والله سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۲۲؍ صفر المظفر ۱۴۲۹ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۸؍۹۴۸۰)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۲۲؍۲ ؍۲۹ ۱۴ھ
مسبوق کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا

سوال ]۲۹۳۴[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ فتاوی محمودیہ۲؍۱۲۱ پر ایک سوال اگر مسبوق بھول کر ایک طرف سلام پھیردے کے جواب میں لکھا ہے کہ امام نے جب داہنی طرف سلام پھیرا اور امام السلام کے میم پر پہونچا، اگر اسی وقت مسبوق کو یاد آگیا اور وہ رک گیا تب تو اس کے ذمہ سجدۂ سہو نہیں، اگر اس کے بعد سلام پھیرا تو اس کے ذمہ سجدۂ سہو ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مسبوق نے ایک طرف بھی سلام پھیر دیا اس کے بعد یاد آتے ہی کھڑا ہوگیاتب بھی سجدۂ سہو واجب ہے؛ چونکہ عام طور پر مقتدی یا مسبوق امام کے السلام کہنے کے بعد ہی سلام پھیرتے ہیں؛ جبکہ آپ کا ۲۹؍ صفر ۱۴۲۹ھ کا لکھا ہوا فتوی اس میں ہے کہ اگر مسبوق نے امام کے ساتھ بھول کر صرف ایک طرف سلام پھیرا ہے تو سجدۂ سہو نہیں، ہاں اگر دونوں طرف سلام پھیردیا تو سجدۂ سہو کرنا لازم ہے، اس سلسلہ میں راجح اور مفتی بہ قول کیا ہے؟ ہم کسی پر عمل کریں؟
المستفتی: عبد الرشید، سیڈھا، بجنور