خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد بھی چل بسے!
خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد بھی چل بسے!


الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر،محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ کے تلمیذِ رشید، دست ِراست اور جانشین ، خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین، مسندِ ولایت کے سرتاج، حریمِ نبوت کے پاسبان، سلسلہ ٴ عالیہ نقشبندیہ کے سرخیل، امام الاولیأ، محبوب الصلحأ، امامِ وقت، قطب الاقطاب، امامِ زماں، جامع علم وعرفان، خواجہ خوجگان حضرت خواجہ خان محمد قدس سرہ سیال کلینک ملتان میں ۲۰ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۱ھ مطابق ۵/مئی ۲۰۱۰ء کو مختصر علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، ان للّٰہ ما اخذ ولہ ما اعطی وکل شئ عندہ باجل مسمی۔
اس دنیا رنگ وبو میں آنا جانے کی تمہیدہے، یہاں جو بھی آیا، وہ رہنے کے لئے نہیں، بلکہ جانے کے لئے ہی آیا، یہاں آنا اور جانا سنت بنی آدم ہے۔ تاہم بعض شخصتیں مینارہٴ نور ہوتی ہیں، ان کا وجود اللہ کی رحمت کے نزول کا سبب ہوتا ہے، ان کے دم قدم سے علوم نبوت کا وقار قائم رہتا ہے، ان کے جانے سے امت ان فیوض برکات سے محروم ہوجاتی ہے، جن کا تعلق ان کی ذات کے ساتھ ہوتاہے، ان کی دعائے نیم شبی، بارگاہ خداوندی میں ان کی گریہ زاری، پوری امت کے لئے ان کا سراپا سوز وگداز، اصلاح امت کے لئے ان کی فکر اور لگن، یہ تمام چیزیں ان کی ذات کے ساتھ ہی رخصت ہوجاتی ہیں اورامت کے لئے اس نقصان کی تلافی ناممکن ہوجاتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے:
”عن مرداس الاسلمی قال: قال رسول اللہ ا:یذہب الصالحون الاول فالاول وتبقی حفالة کحفالة الشعیر او التمر لایبالیہم الله بالة رواہ البخاری“۔ (مشکوٰة، ص:۴۵۸)
ترجمہ:۔”حضرت مرداس اسلمی سے روایت ہے کہ حضور ا نے فرمایا:نیک لوگ یکے بعد دیگرے اٹھتے جائیں گے اور (انسانیت کی) تلچھٹ پیچھے رہ جائے گی، جیساکہ ردی جو یا کھجور رہ جاتے ہیں، حق تعالیٰ ان کی پرواہ نہیں کرے گا“۔
ایک اور حدیث میں ہے:
”ان اللّٰہ لایقبض العلم انتزاعاً ینتزعہ من العباد ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی اذا لم یبق عالماً اتخذ الناس رؤساً جہالاً فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا متفق علیہ“۔ (مشکوٰة،ص:۳۳)
ترجمہ:۔”بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ بندوں کے سینوں سے چھین لے گا، بلکہ قبض علم کی یہ صورت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ علماء کو اٹھاتا رہے گا، یہاں تک کہ جب ایک عالم باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، ان سے سوالات ہوں گے، وہ بغیر جانے بوجھے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ انسانیت کی بقاء دوچیزوں پر منحصر ہے: ایک صحیح علم، دوسرا عمل صالح، جب تک ان دونوں صفات سے متصف شخصیات موجود ہیں، اس وقت تک انسانیت باقی ہے اور ان دونوں کی موت درحقیقت انسانیت کی موت ہے۔ علم وعمل کی جامع شخصیات بہت تیزی سے ہم سے رخصت ہو رہی ہیں، جو ہستیاں علم وعمل کی جامع او رانسانیت کا اعلیٰ نمونہ ہیں، ان کے بتدریج اٹھتے چلے جانے سے یہ دونوں چیزیں اٹھتی جارہی ہیں اور انسانیت دم توڑ رہی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید قدس سرہ کی شہادت کے غم سے کارکنان ختم نبوت اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے درودیوارابھی تک افسردہ وغمزدہ اور حسرت ویاس کی کیفیت سے نہیں نکل پائے تھے کہ امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد قدس سرہ کی رحلت کا جان لیوا صدمہ پوری امت مسلمہ خصوصاً مسلک دیوبند اورختم نبوت کے کاز سے وابستہ افراد وکارکنان کو نیم جان کر گیا۔ اللّٰھم لاتحرمنا اجرہ ولاتفتنا بعدہ۔
حضرت خواجہ خان محمد قدس سرہ سراج الاولیاء حضرت خواجہ محمد سراج الدین کے مرید باصفا جناب خواجہ عمر کے گھر بمقام موضع ڈنگ کندیاں ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے۔
چھٹی جماعت تک لوئر مڈل اسکول کھولہ میں تعلیم پائی، دینی تعلیم وتربیت کے لئے قیوم زماں حضرت خواجہ ابو السعد احمد خان قدس سرہ کے سپرد کئے گئے جسے حضرت نے آپ کے والد سے خود مانگا تھا۔ قرآنی تعلیم پیر سید عبد اللطیف (احمد پور سیالوی) سے حاصل کی، صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی سے پڑھیں، اس کے بعد دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ میں زیر تعلیم رہے۔ مزید تعلیم کے لئے جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت (ہندوستان) کا سفر کیا، یہاں جلالین، مشکوٰة، ہدایہ، مقامات حریری اور دوسری کتابیں پڑھیں ،آپ کے اساتذہ جن سے آپ نے کسب علم وفیض کیا، ان میں حضرت مولانا حافظ عبد الرحمن امروہی،حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی ، محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مراقدہم کے اسماء گرامی شامل ہیں۔
۱۳۶۲ھ مطابق ۱۹۴۳ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے آپ نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا، جہاں شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی قدس سرہ اپنے علمی فیوض وبرکات سے تشنگان علوم نبوی کو سیراب فرمارہے تھے، لیکن ان ایام میں حضرت مدنی جیل میں اسیر تھے، لہذا آپ نے حضرت مولانا اعزاز علی، حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی اور دوسرے جلیل القدر اساتذہ سے دورہ حدیث وتفسیر کی تکمیل فرمائی۔
حضرت خواجہ خان محمد قدس سرہ کے دل میں حد درجہ اپنے اساتذہ کا ادب واحترام تھا، اور آپ کے اساتذہ بھی آپ سے حد درجہ محبت وشفقت اور آپ سے اکرام کا معاملہ فرماتے، جس کی ایک جھلک اس مضمون میں ملتی ہے جو حضرت خواجہ صاحب نے محدث العصر حضرت بنوری قدس سرہ کے وصال پر ”مشفق استاذ“ کے نام سے تحریر کیا، حضرت لکھتے ہیں:
”استاذ العلماء حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری بن حضرت مولانا سید محمد زکریا بنوری رحمہما اللہ تعالیٰ فقیر کے مشفق استاد تھے، اور شفقت ومحبت سے اپنا خادم اور ساتھی بھی تصور فرماتے تھے، وہ ہنس مکھ نورانی چہرہ اور میٹھی میٹھی رس بھری باتیں جو کانوں میں شیرینی گھول دیتی تھیں اور دل ودماغ کوتر وتازگی بخشتی تھیں، جب یاد آتی ہیں تو ان کو ”رحمة اللہ علیہ“ لکھنے سے دکھ ہوتا ہے، لیکن جب سب نے اسی راستے پر چلنا ہے تو پھر اس شعر میں کوئی جدت اور ندرت باقی نہیں رہ جاتی کہ:
ہر آنکہ زاد بنا چار بایدش نوشید
زجام دھرمئے ۔”کل من علیہا فان“
بہرحال دعا ہے کہ رحمہ اللہ رحمة واسعة
فقیر کو شوال ۱۳۶۰ ھ سے شعبان۱۳۶۱ھ تک جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت میں حضرت مولانا مرحوم سے سبعہ معلقہ مقامات حریری اور ادبی متوسطات پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔
۱۳۷۵ھ ۱۹۵۶ء میں حضرت سیدی ومرشدی مولانا محمد عبد اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ جانشین قیوم زمان حضرت مولانا ابو السعد احمد خان صاحب رحمة اللہ علیہ بانی خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی کے وصال کے بعد خانقاہ سراجیہ کی خدمت کا بوجھ جب فقیر کے کندھوں پر آپڑا تو اس کے بعد ایک دفعہ خانقاہ شریف کے غائبانہ تعارف کی وجہ سے حضرت مولانا صاحب مرحوم خانقاہ سراجیہ رونق افروز ہوئے۔ سوئے قسمت سے فقیر ہری پور ہزارہ کے سفر پر تھا، خانقاہ شریف سے واپسی پر حضرت مولانا بھی اپنے محترم داماد مولانا محمد طاسین صاحب کو ملنے ہری پور ہزارہ تشریف لے گئے تو وہاں ہری پور کے متصل موضع درویش میں قاضی شمس الدین صاحب کے مکان پر فقیر کو ملنے نشریف لائے اور بڑی محبت اور دل چسپی سے خانقاہ شریف کے پر سکون ماحول اور عظیم کتب خانے کا ذکر فرمایا اور پھر فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ علمی کام کے لئے آدمی خانقاہ شریف آجائے، کیونکہ ہر طرح کا سکون اور یکسوئی جس طرح وہاں میسر ہے کراچی جیسے مصروف شہر میں اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا، پھر جبکہ اتنا عظیم اور جامع کتب خانہ بھی ہروقت دسترس میں ہو“۔
(بینات اشاعت خاص حضرت بنوری نمبر ص:۵۲۳،۵۲۴)
اسی طرح جناب محمد نذیر رانجھا صاحب اپنی تالیف: تاریخ وتذکرہ خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ میں رقم طراز ہیں:
”۱۹۷۴ء کی ختم نبوت تحریک کے دوران جامع مسجد، کچہری بازار، فیصل آباد میں ختم المرسلین ا کے پروانوں کا جلسہ تھا، حضرت بنوری کراچی سے تشریف لائے، مفتی زین العابدین صاحب کی رہائش گاہ پر قیام پذیر تھے، حضرت مخدوم زمان خواجہ خوجگان خان محمد مدظلہ اپنے استاذ مکرم کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے، حضرت بنوری نے کھڑے ہوکر آپ کا استقبال کیا، آپ حضرت بنوری کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گئے، امام الحدیث حضرت بنوری نے آپ سے فرمایا: آپ ایسا نہ کریں، لیکن حضرت خواجہ مدظلہ دو زانو ہی بیٹھے رہے، گفتگو کے بعد مجلس برخاست ہوئی ،حضرت علامہ سید بنوری مجلس سے جانے کے لئے اٹھے، آپ نے حضرت بنوری کا جوتا اٹھایا اور ان کے سامنے رکھا، انہوں نے کچھ بھی نہ کہا، دونوں حضرات ایک دوسرے کو الوداع کہنے کے لئے باہر تشریف لائے، بوقت رخصت حضرت بنوری نے آپ سے دعا کی درخواست کی۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ سراجیہ ص:۱۴۱)
آپ نے اپنے مربی ومحسن حضرت مولانا ابو السعد احمد خان قدس سرہ کے وصال کے بعد پندرہ برس تک اپنے شیخ ومرشد حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی قدس سرہ کی خدمت میں رہ کر باطنی علوم وفیوض کی تعلیم پائی، آپ کو یکے بعد دیگرے دو بلند مرتبہ شیوخ سے فیض یاب ہونے کی سعادت نصیب ہوئی، جس کی بدولت آپ کو اس راہ میں کمال نصیب ہوا۔جناب نذیر احمد رانجھا صاحب لکھتے ہیں:
”ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ قدس سرہ نے حضرت قاضی شمس الدین سے فرمایا: ”حضرت شیخ الہند جب مالٹا میں نظر بند تھے تو معارف قرآن کریم پر ایک کتاب لکھنے کا ارادہ فرمایا، چند صفحات لکھنے کے بعد اسے ترک کردیا، استفسار پر فرمایا کہ میں نے کتاب کی بجائے ایک آدمی (حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی) پر محنت شروع کردی ہے تاکہ خلق خدا کی ہدایت کے لئے ایک چلتا پھرتا نسخہ تیار ہوجائے“۔
حضرت اقدس (مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی) نے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ میں بھی ایک آدمی تیار کررہا ہوں، بعد ازاں قرائن سے پتہ چلا کہ وہ آدمی مخدوم زمان حضرت مولانا ابو الخلیل خان محمد بسطہ اللہ ظلہم العالی ہیں، جو آپ کے خلیفہ وجانشین قرار پائے“۔ (تاریخ وتذکرہ خانقاہ سراجیہ ص:۴۱۳)
حضرت خواجہ خان محمد قدس سرہ نے اپنے شیخ نائب قیوم زمان سے سلاسل اربعہ نقشبندیہ ، مجددیہ، قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ میں خلافت پائی، اس کے علاوہ سلاسل قلندریہ،امدادیہ اورکبرویہ کی خلافت سے بھی سرفراز ہوئے۔
۲۷/ شوال المکرم ۱۳۷۵ھ مطابق ۷/ جون ۱۹۵۶ میں نائب قیوم زمان کے وصال کے بعد آپ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجاہ نشین قرار پائے، آپ نے اپنے شیخ ومرشد کی توقعات کے مطابق اپنی حیات مستعار کے چھپن سال خلق خدا کو رب سے جوڑنے، عصیان وطغیان میں مبتلا افراد کو ان گناہوں سے توبہ کرانے، عوام وخواص کو اسلامی زندگی گذارنے اور بدعات وخرافات میں ڈوبے انسانوں کو سنت نبویہ کی راہ پر ڈالنے میں کھپادیئے۔
آپ مسلک دیوبند سے تعلق رکھنے والے ہر مدرسہ اور جماعت کو اپنا مدرسہ اور اپنی جماعت قرار دیتے تھے، ان کواپنی دعاؤں اور توجہات سے نوازتے، اگر کوئی مسئلہ پیش آجاتا تو حتی المقدور اس کے حل کی کوشش فرماتے اور مزید اپنے رب سے دعائیں اور التجائیں فرماتے۔ لیکن زیادہ تر آپ کی عملی خدمات خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف اورعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف تھیں۔
تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت مآب ا کے ساتھ عشق ومحبت اور والہانہ لگاؤ خانقاہ سراجیہ کا خاصہ رہا ہے ، کیونکہ یہی عقیدہ ایمان کی بنیاد ہے۔
ملک کی تقسیم سے قبل مسئلہ مسجد شہید گنج میں خانقاہ سراجیہ کے شیخ اول نے مجلس احرار اسلام کو حکم دیا کہ اپنی توجہ صرف رد قادیانیت کی طرف ہی مرکوز رکھیں۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت خواجہ خان محمد  نے اپنے شیخ حضرت مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی قدس سرہ کے حکم پر گرفتاری دی اور چھ ماہ تک لاہوراور میانوالی جیل میں قید رہے۔
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت بنوری کے شانہ بشانہ، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں کام کیا، جس کی بدولت پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت جو صرف پاکستان کی حد تک مصروف عمل تھی، حضرت بنوری کے دورامارت میں آپ کی ذاتی کوششوں سے بیرون ممالک میں اس کا تعارف ہوا، جس کے نتیجہ میں دنیا بھر کی ۱۴۴ مسلم تنظیموں کے نمائندہ پلیٹ فارم ”رابطہ عالمی اسلامی“ میں اتفاق رائے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ حضرت بنوری کے وصال کے بعد آپ امیر مرکزیہ منتخب ہوئے، آپ نے اپنے اکابر کی راہ پر چلتے ہوئے ساری زندگی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں گزاردی اور ہرمحاذ پر فتنہ قادیانیت کا کامیاب تعاقب کیا۔ آپ کے عہد امارت میں اندرون وبیرون ملک ہرسطح پر جماعت کو غیر معمولی کامیابیاں نصیب ہوئیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
۱…حضرت خواجہ صاحب نے کئی ممالک کے کامیاب دورے کرکے امت مسلمہ کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے بیدار اور آگاہ فرمایا۔
۲… عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت مدارس ومراکز کا قیام۔
۳…سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا آغاز۔
۱۹۸۴ء میں تحریک ختم نبوت کی سرپرستی ، جس کے نتیجہ میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس کا پاس ہونا، جس کے تحت قادیانیوں کو شعائر اسلام کے استعمال سے روک دیا گیا۔
۵… لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر کا قیام۔
۶…برطانیہ میں ہر سال ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد، جہاں تمام یورپی ممالک کے مسلمان ہرسال جمع ہوکر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور اپنے مسلمان بھائیوں کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں اور ریشہ دوانیوں سے بچانے کا عزم اور ولولہ لے کر جاتے ہیں۔
۷…فتنہ قادیانیت کے متعلق لاکھوں کی تعداد میں عربی، اردو، انگلش تینوں زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت ومفت تقسیم۔
۸… رد قادیانیت کے موضوع سے علماء طلباء اورعوام الناس کو روشناس کرانے اور علمی مواد فراہم کرنے کی غرض سے درجنوں کتب کی طباعت۔
یہ سب حضرت امیر مرکزیہ کی مساعی جمیلہ اور توجہات خاصہ کا ثمرہ ہے۔
حضرت خواجہ صاحب اس قحط الرجال میں بلاشبہ اسلاف واکابر کی یادگار، تقوی وطہارت، عجز وانکسار، خشیت وخدا خوفی، زہد واخلاص، گوشہ نشینی، فنائیت وعبدیت، فضل وکمال، معصومیت وسادگی اور علم وعمل کے اعتبار سے گویا قرون اولیٰ کے قافلہ کے بچھڑے ہوئے ایک مسافر تھے ،جو اپنی حیات مستعار کے ایام پورے کرکے اپنے پیش رو قافلہ سے جاملے۔ اپنے اور پرائے سب ہی کے آپ مرجع تھے ، بلاشبہ آپ حلقہ ٴ دیوبند میں متفق علیہ شخصیت کے اعزاز سے سرفراز تھے۔ آپ کی رحلت سے آپ کے نسبی ابناء ہی نہیں، ہم سب یتیم ہوگئے ہیں۔
حضرت خواجہ صاحب نے اپنے پسماندگان میں پانچ صاحبزادے: صاحبزادہ عزیز احمدخان، صاحبزادہ خلیل احمدخان،، صاحبزادہ رشید احمدخان، صاحبزادہ سعید احمد خان، صاحبزادہ نجیب احمد خان مدظلہم اورایک صاحبزادی سلمہا سوگوار چھوڑے ہیں۔ آپ کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر آپ کے صاحبزادہ اور آپ کے جانشین خواجہ خلیل احمد خان صاحب دامت برکاتہم نے پڑھائی۔بلامبالغہ لاکھوں لوگ آپ کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے ، جس میں آپ کے مریدین، متعلقین، متوسلین، علماء، مشائخ، سیاستدان ، دینی مدارس کے طلباء اور عوام الناس نے دور دراز کا سفر طے کرکے شرکت کی۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے جامعہ کے رئیس اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ، استاذ الحدیث حضرت مولانا امداد اللہ صاحب، حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب، اور راقم الحروف شریک ہوئے۔
جامعہ کے نائب رئیس مولانا سید سلیمان یوسف بنوری حفظہ اللہ، عمرہ کے سفر پر ہونے کی بناء پر نماز جنازہ میں شریک نہ ہوسکے۔
اللہ تعالیٰ حضرت خواجہ خان محمد کی زندگی بھر کی حسنات کو قبول فرماکر آپ کے ساتھ رضا ورضوان کا معاملہ فرمائے اور آپ کے پسماندگان، مریدین اور کارکنان ختم نبوت کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس ،نائب رئیس، اساتذہ اور ادارہ بینات اپنے آپ کو تعزیت کا مستحق سمجھتے ہیں۔
باتوفیق قارئین بینات سے حضرت خواجہ صاحب کے لئے ایصال ثواب کی درخواست ہے۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۰ ماہنامہ بینات , جمادی الاخریٰ:۱۴۳۱ھ - جون: ۲۰۱۰ء, جلد 73, شمارہ