باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: (۱) عورتوں کا حفظ قرآن کی خاطر تراویح کی جماعت کرنا جس میں گھر کی عورتیں ہوں، خلاف اولیٰ ہے؛ لیکن جب عورت امامت کرے گی تو درمیانی صف میں کھڑی ہوگی، مردوں کی طرح تنہا آگے صف میں کھڑی نہ ہوگی۔
عن عائشۃ أم المؤمنین -رضي اﷲ عنہا- أنہا کانت تؤم النساء في شہر رمضان، فتقوم وسطا، قال محمد: لا یعجبنا أن تؤم المرأۃ، فإن فعلت قامت في وسط الصف مع النساء کما فعلت عائشۃ -رضي اﷲ تعالیٰ عنہا- وہو قول أبي حنیفۃ رحمہ اﷲ۔ (کتاب الآثار، باب المرأۃ تؤم النساء، وکیف تجلس في الصلاۃ؟ کراچی ۱/ ۲۰۸، رقم: ۲۱۷)
(۲) اگر بالغ مرد صرف نامحرم عورتوں کی امامت کرتا ہے، تو مکروہ تحریمی ہے، ہاں البتہ امام کی محرم عورتیں بھی موجود ہوں، جب کہ غیر محرم تمام عورتیں پردہ میں ہوں، تو مکروہ نہیں، مگر اس فتنہ کے دور میں پھر بھی احتیاط ضروری ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاوی ۳/ ۲۸۴)
وکذلک یکرہ أن یؤم النساء في بیت، ولیس معہن رجل، ولا محرم منہ مثل زوجتہ، وأمتہ، واختہ، فإن کانت واحدۃ منہن فلا یکرہ۔ (البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، زکریا ۱/ ۶۱۶، کوئٹہ، ۱/ ۳۵۲، درمختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، کراچی ۱/ ۵۶۶، زکریا ۲/ ۳۰۷) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۲۰؍ ربیع الثانی ۱۴۲۱ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۵/ ۶۵۹۶)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۲۰؍ ۴؍ ۱۴۲۱ھ
عورتوں کی تراویح کی جماعت کا حکم

سوال ]۳۲۲۹[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: