خطب صبي بإذن السلطان، وصلی بالغ جاز ہو المختار۔ (شامي، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، کراچي ۲/۱۶۲، زکریا ۳/۳۹)
وفي القنیۃ: واتحاد الخطیب والإمام لیس بشرط علی المختار نہر۔ وفي الذخیرۃ: لو خطب صبي عاقل وصلی بالغ جاز؛ لکن الأولی الاتحاد کما في شرح الآثار۔ (حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، دارالکتاب دیوبند جدید ۵۰۸)
ولاینبغي أن یصلي غیر الخطیب؛ لأن الجمعۃ مع الخطبۃ کشئ واحد، فإن فعل بأن خطب صبي بإذن السلطان، وصلی بالغ جاز۔ (مجمع الأنہر، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، قبیل باب صلاۃ العیدین قدیم مصري ۱/۱۷۲، دارالکتب العلمیہ بیروت جدید ۱/۲۵۴) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۲۹؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۳ھ
(فتویٰ نمبر: الف۳۶ ؍۷۶۷۰)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۳۰؍ ۵؍ ۱۴۲۳ھ
خطبۂ جمعہ زبانی دینا بہتر ہے یاکتاب کو دیکھ کر؟

سوال ]۳۶۴۹[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ خطبۂ جمعہ جو کتابوں میں شائع ہو چکے ہیں، ان کو دیکھ کرپڑھنے یا ان خطبوں کو زبانی یاد کر کے یا اپنی طرف سے بناکر دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ان خطبوں کو دیکھ کر دینا زیادہ بہتر ہے، جو شائع ہوچکے ہیں بالمقابل ان خطبوں کو زبانی یاد کر کے یا اپنی طرف سے بناکر دینے کے شرعاً کیا حکم ہے؟
المستفتی: محمدالطاف، متعلم مدرسہ شاہی مرادآباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ