الجواب وباللّٰہ التوفیق: خطبۂ جمعہ زبانی اور دیکھ کر پڑھنا دونوں طرح جائز ہے؛ لیکن زبانی یاد کر کے یا اپنی طرف سے بنا کر کے زبانی یاد کر کے دینا زیادہ بہتر ہے؛ کیونکہ خطبہ جمعہ وعظ ہے؛ اس لئے زبانی یاد کر کے ہی خطبہ دینا زیادہ بہتر ہے۔ (مستفاد: فتاوی محمودیہ قدیم ۹؍۱۵، ڈابھیل ۸؍۲۱۲، ۲۱۳)
والخطبۃ في الاصطلاح ہي الکلام المؤلف، الذي یتضمن وعظاً وابلاغاً علی صفۃ مخصوصۃ۔ (المؤسو عۃ الفقہیۃ ۱۹/۱۷۶) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۲۷؍ رجب المرجب ۱۴۲۴ھ
(فتویٰ نمبر: الف ۳۷؍۸۱۴۱)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۱۷؍۷ ؍ ۱۴۲۴ھ
دوران خطبہ متولی کا امام صاحب کو پگڑی باندھنا

سوال ]۳۶۵۰[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ہمارے یہاں جب امام صاحب نماز سے فارغ ہوتے تھے او رخطبہ کے لئے ممبر پر جاتے تھے، تو خطبہ کے درمیان متولی جامع مسجد اپنی طرف سے ان کے سر پر پگڑی باندھتے تھے، یہ تقریباً پچاس سال سے سلسلہ پگڑی جاری تھا، کسی نے گذشتہ سال منع کردیا، تواب کی مرتبہ ایسا کیا کہ جب امام صاحب خطبہ کے لئے ممبر پر بیٹھے تو خطبہ پڑھنے سے پہلے متولی جامع مسجد نے پگڑی باندھی، ایک صاحب نے پھر ٹوک دیا کہ ایساکرنا صحیح نہیں ہے؛ اس لئے کہ اس میں ریاکاری ہے تاکہ لوگوں کے درمیان متولی صاحب کی شہرت ہو اورلوگ جانیں کہ جامع مسجد کے متولی ہیں، تو کیا پگڑی باندھنا ممبر پر امام صاحب کے صحیح ہے؟ ان حضرات نے کہا امام صاحب سے ہمیں محبت ہے؛ اس لئے پگڑی باندھتے ہیں، توجواب دیا گیا کہ اگر محبت ہے تو گھر ہی سے امام صاحب کے پگڑی باندھ کر کیوں نہیں لاتے، تو کیا متولی مسجد کا یہ فعل درست ہے کہ نہیں؟