نہیں ہے؛ اس لئے خطبہ کا اعادہ واجب نہیں ہوگا،ہاں اس کا اعادہ مستحب ہوگا۔
ولو خطب محدثاً أو جنباً، ثم توضاً أو اغتسل وصلی جاز الخ (البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، زکریا ۲/۲۵۸، کراچي ۲/۱۴۷)
خطبہ لوٹا نا واجب و لازم نہیں؛ البتہ مستحب ضرور ہوگا۔
لو خطب محدثا أو جنباً، جاز و یأثم ثم إقامۃ الخطیب في المسجد، وبہ ظہر معنی السنیۃ مقابل الشرط من حیث صحۃ الخطبۃ۔ (شامي، کتاب الصلاۃ، با ب صلاۃ الجمعۃ، زکریا۳/۳۴، کراچي ۲/۱۵۰) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۱۴؍ ذی قعدہ ۱۴۰۹ھ
(فتویٰ نمبر: الف ۲۵؍۱۳۹۰)
مقامی زبان میں منظوم خطبہ دینا

سوال ]۳۶۵۲[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ خطبۂ جمعہ کے وقت ہندوستان میں عموماً سامعین؛ چونکہ عربی زبان نہیں سمجھتے، اس لئے کیاخطبہ مقامی زبان میں پڑھا جاسکتاہے؟اور نثر کی بہ نسبت نظم زیادہ مؤثر ہوتی ہے، تو کیا خطبۂ جمعہ اردو منظوم پڑھا جاسکتا ہے؟
(۲) زاہد خطبۂ جمعہ اول عربی میں پڑھتا ہے او رپھر فوراً نماز سے قبل ہی اس کا اردو منظوم ترجمہ پڑھتا ہے، کیا یہ عمل درست ہے ؟ اگر نہیں تو کیا ترک سنت لازم آتا ہے؟
المستفتی: تسلیم احمد، تمباکو والان، مراد آباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: (۱) خطبہ کا عربی زبان میں ہونا ضروری ہے، اگر غیر عربی میں جائز ہوتا تو بہت سے صحابہ کرامؓ جو دور دور بلاد عجمیہ میں گئے، وہ بھی غیر عربی میں