خطبہ دے سکتے تھے؛ لیکن عربی کو چھوڑ کر کسی دوسری زبان میں خطبہ نہ دیا؛ کیونکہ آپ ﷺ کا طریقہ اورسنت متوارثہ یہی ہے کہ خطبہ عربی زبان میں ہو، اس کے بر خلاف عربی زبان کو چھوڑ کر اردو میں خطبہ پڑھنا یاعربی کے ساتھ اردو کو ملانا مکروہ تحریمی اور بدعت ہے، اسی طرح خطبۂ جمعہ میں اردو منظوم پڑھنا بدعت اور ناجائز ہے؛ کیونکہ قرون مشہودلہا بالخیر میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ (مستفاد: امداد المفتیین ص:۳۸۵)
فإنہ لاشک في أن الخطبۃ بغیر العربیۃ علی خلاف السنۃ المتوارثۃ من النبي صلی الله علیہ وسلم والصحابۃ، فیکون مکروہًا تحریماً، وکذا قراء ۃ الأشعار الفارسیۃ، والہندیۃ فیہا۔ (عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ، باب احکام صلاۃ الجمعۃ، اشرفی دیوبند ۱/۲۰۰)
(۲) زید کا یہ طریقہ بالکل خلاف سنت ہے، حضور ﷺ کا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ خطبہ ختم فرماتے،تو فوراً اقامت کہی جاتی۔ اور نماز اور خطبہ کے درمیان فصل نہیں کرتے؛ اس لئے خطبہ اور اقامت کے درمیان فصل کرنا مکروہ ہوگا اور اس کا اردو منظوم پڑھنا بھی مکروہ ہوگا۔
قولہ: فإذا أتم أي الإمام الخطبۃ أقیمت بحیث یتصل أول الإقامۃ بآخر الخطبۃ۔ (شامي کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، کراچي ۲/۱۶۱، زکریا ۳/۳۹)
وفي الدر: ویکرہ الفصل بأمر الدنیا، ذکرہ العینی۔ (درمختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، کراچي ۲/۱۶۱،زکریا ۳/۳۹) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۱۶؍ رجب المرجب۱۴۲۰ھ
(فتویٰ نمبر: الف ۳۴؍۶۲۶۴)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۱۶؍۷ ؍۲۰ ۱۴ھ
خطبہ کے درمیان اردو تقریر کرنا

سوال ]۳۶۵۳[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے