صورت میں دوبارہ نماز مسجد مذکورہ میں بلا کراہت درست ہو جائے گی۔ (مستفاد: فتاوی رحیمیہ، قدیم ۵؍۳۶، جدید زکریا ۶؍۱۵۳)
یکرہ تکرار الجماعۃ في مسجد محلۃ بأذان وإقامۃ الخ (شامي، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد،زکریا ۲/۲۸۸، کراچي ۱/۵۵۲) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۸؍ شعبان المعظم ۱۴۱۵ھ
(فتویٰ نمبر: الف۳۱ ؍۴۱۴۰)
جہاں جمعہ جائز نہیں وہاں عید کی نماز کا حکم

سوال ]۳۷۲۶[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ مدرسہ اسلامیہ میں قرآن کریم کی تعلیم ہوتی ہے اور فرض نماز بھی ادا کی جاتی ہے، علاوہ جمعہ کے اور رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن شریف بھی مستقل طریقے سے پڑھا جاتاہے، جب سے مدرسہ قائم ہواہے۔ کیا اس مدرسہ اسلامیہ میں عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز بھی پڑھائی جاسکتی ہے یانہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
المستفتی: حافظ خوشنود احمد، ڈھکیہ جمعہ
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: آبادی سے باہر جاکر عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے؛ لہٰذا ایسے قصبہ کے مدرسہ میں جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو وہاں عیدین کی نماز کو قائم نہ کیا جائے ؛ کیونکہ بلاعذر کے آبادی سے باہر جاکر عیدگاہ میں نماز نہ پڑھنا خلاف سنت ہے۔ (مستفاد: ایضاح المسائل ص:۳۵)