النسخۃ الہندیۃ ۲/۱۸۷، دارالسلام رقم:۳۴۹۹) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا الله عنہ
۵؍ رجب المرجب ۱۴۱۸ھ
(فتویٰ نمبر: الف ۳۳؍۵۳۷۲)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۵؍ ۷؍۱۸ ۱۴ھ
نماز عید اور خطبہ دونوں کے بعد دعا مانگنا کیسا ہے؟

سوال ]۳۷۴۵[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ زید ہمارے یہاں جمعہ وعیدین کا امام ہے، امام مذکور عیدین میں نماز عیدین کے بعد دعا مانگتا ہے اور خطبہ سے فارغ ہو کر پھر دوبارہ اجتماعی جہری دعا کرتا ہے۔ زید امام کے اس عمل پر عمرو نے زید کو دو دعا مانگنے سے منع کیا او رکہا کہ نماز عیدین کے بعد دعا مانگ لیں اور خطبہ کے بعد دعا نہ کریں اور عمرو نے اپنی دلیل میں امدادالفتاوی، فتاوی رحیمیہ وغیرہ کاحوالہ پیش کیا، مگر زید امام دو دعا مانگنے پر مصر ہے۔ اب آپ فیصلہ فرمائیں کہ زید و عمرو میں کس کا موقف صحیح اور جمہور کے موافق ہے؟ پھر اگر ایک ہی دعا کرنا ثابت ہے،تو یہ دعا کس وقت کرنا اولیٰ اور بہتر ہے، آیانماز عیدین کے بعد یا بجائے بعد نماز عیدین کے خطبہ کے بعد دعا کرنا بہتر ہے؟ مفصل باحوالہ تحریر فرمائیں۔ بینوا توجروا۔
المستفتی: سفیان احمد القاسمی
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: عیدین کی نماز کے بعد دعاء مشروع ہے؛ لیکن خطبہ کے بعد دعاء کاکو ئی ثبوت نہیں ملتا؛ لہٰذا عمرو کا دو دعا پر نکیر کرنا صحیح اور درست ہے اور عمرو نے دلیل میں جن فتاوی کی کتابوں کا حوالہ دیا ہے، وہ بھی درست ہے۔ اور زید امام کا دو دعاء مانگنے پر مصر ہونا ہٹ دھرمی اور ضدپر محمول ہوگا، اس کو اپنی ضد سے باز آجانا چاہئے۔ (مستفاد: فتاوی محمودیہ قدیم ۲؍۲۹۵، ۲؍۳۰۷، جدید ڈابھیل ۸؍۴۶۵، ۴۶۱، امداد الفتاوی ۱؍۶۰۲، ایضاح المسائل۳۳)