سے نماز پڑھنے کو کھڑے ہو کر اشارہ سے نماز پڑھنے کے مشابہ قرار دینا ہماری سمجھ میں نہیں آیا؛ اس لئے مفتی صاحب سے گذارش ہے کہ اس مسئلہ کو واضح انداز میں بیان کر کے ہمارے شبہ کو دور فرما کر مطمئن فرمائیں؟
المستفتی: مجیب الرحمن بڑا گاؤں، موانہ ، میرٹھ
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حضرت اقدس مولانا مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم کا تحقیقی فتوی دیکھ لیاگیا، اس میں جو تحقیقات پیش کی گئی ہیں ان میں سے اکثر سے ہمیں اتفاق ہے؛ لیکن کر سی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنے کو کھڑے ہو کر اشارہ سے نماز پڑھنے کے برابر جو قرار دیاگیا ہے، اس سے ہم کو اتفاق نہیں ہے، حضرت مفتی صاحب موصوف اس تشبیہ پر دوبارہ نظر ثانی فرمالیں تو بہتر ہے، او راس کی کئی وجوہات ہمارے سامنے آئی ہیں۔
(۱) کرسی پر بیٹھنے کی صورت میں پیروں ، کمر اور پورے بدن پرکوئی زور نہیں پڑتا جس میں معذور کے لئے کوئی پریشانی نہیں ہوتی؛ جبکہ کھڑے ہو نے کی صورت میں پورے بدن کا زور پیرو ں او رکمر پر مکمل پڑتا ہے، جو کرسی پر بیٹھنے کی صورت میں حاصل نہیں ہوتا اورمعذور آدمی کھڑے ہو کر جب نماز پڑھتا ہے، تو اس کو کم و بیش کچھ نہ کچھ تکلیف برداشت کرنی پڑجاتی ہے جس کا تجربہ سب کو ہے۔
(۲) حاکم کے سامنے کھڑا ہونا عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرنا ہے اور کرسی پر بیٹھنے میں عاجزی و انکساری نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ کرسی پر بیٹھنا اعزاز و اکرام او ربڑائی کا سبب ہے، جو حاکم کے سامنے نامناسب سمجھا جاتا ہے؛ اس لئے کہ کوئی بھی چھوٹا بڑے کے سامنے کرسی پر بیٹھنے کے بجائے اس وقت تک کھڑا رہتا ہے، جب تک بڑے کا حکم نہ ملے اور بڑوں کے سامنے کر سی پر بیٹھنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے،مگر کھڑے رہنے کو ادب کے دائرہ میں سمجھا جاتا ہے تو دونوں برابر کیسے ہوسکتے ہیں؟