المعجم الکبیرمیں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے:
عن عبد الله بن محمد بن عقیل أن فاطمۃ لما حضرتہا الوفاۃ أمرت علیًّا، فوضع لہا غسلاً فاغتسلت وتطہرت ودعت بثیاب أکفانہا فأتیت بثیاب غلاظ خشن ولبستہا ومست من الحنوط وأمرت علیًّا أن لا تکشف إذا قبضت، وأن تدرج کما ہی في ثیابہا، فقلت لہ ہل علمت أحد أفعل ذلک، قال: نعم! کثیر بن عباس وکتب في أطراف أکفانہ ’’یشہد کثیر بن عباس‘‘ أن لا إلہ الله ۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العلمي ۲۲/۳۹۹، رقم:۹۹۶، المصنف لعبد الرزاق، المکتب الإسلامي، بیروت ۳/۴۱۱، رقم:۶۱۲۶)
دوسری قسم کی وہ رایات ہیں جن میں اس بات کی وضاحت ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت اسماء بنت عمیسؓ کو وصیت کی تھی یہی دونوں ان کو وفات کے بعد غسل دیں گے ، ان دونوں کے علاوہ کوئی دوسرا ان کے غسل میں شریک نہ ہو، تو اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت فاطمہؓ کو وفات کے بعد باضابطہ غسل دیا گیا ہے اور یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے؛ ا س لئے کہ موت کے بعد جوغسل دیاجاتا ہے، وہ غسل واجب ہے اور موت سے پہلے اس غسل واجب کا فریضہ ادا نہیں ہوسکتا؛ بلکہ موت کے بعد ہی ادا ہوسکتا ہے اور دونوں روایات میں تطبیق کی شکل یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے وفات سے پہلے اطمینان سے غسل فرمالیا تھااور کفن والا کپڑا بھی پہن لیا تھا اورحضرت ام سلمیٰ اور حضرت علیؓ کو وصیت کر دی تھی کہ ان کا بدن نہ کھولا جائے، پھر بعد میں ان کو احساس پیدا ہوا کہ موت کے بعد غسل واجب ہوتا ہے؛ اس لئے حضرت اسماء بنت عمیسؓ اورحضرت علیؓ کو دوبارہ وصیت کردی کہ مجھے غسل صرف آپ ہی دونوں حضرات دیں اور آپ دونوں کے علاوہ کوئی اور میرے غسل میں شریک نہ رہے، اصل واقعہ و صحیح بات یہی ہے کہ بعد میں اس طرح غسل بھی دیا گیا ہے اور دونوں روایتوں کے درمیان اس صورت میں کوئی تعارض بھی نہیں رہتا؛ بلکہ دونوں روایتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔