في الساعۃ المحمودۃ خمسۃ و أربعون قولاً وأذکر ہہنا اثنین۔ قول الأحناف أنہا بعد العصر إلی غروب الشمس، وہو مختار أبيحنیفۃ وأحمد بن حنبل۔ والقول الثاني: إنہا بعد الزوال من الخطبۃ إلی الفراغ عن صلاۃ الجمعۃ، واختارہ الشافعیۃ، ورجح الزملکاني الشافعي القول الأول۔ (العرف الشذي علی ہامش الترمذي، النسخۃ الہندیۃ۱/۱۱۳) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۷؍ صفر المظفر ۱۴۳۶ھ
(فتویٰ نمبر: الف۴۱؍۱۱۹۲۹)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۱۷؍۲ ؍۳۶ ۱۴ھ
جمعہ کے دن مرنے والے کی فضیلت

سوال ]۳۴۴۷[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ جمعہ کے دن مرنے والے کے متعلق کیا فضیلت وارد ہوئی ہے؟ اس سلسلے میں حدیث شریف تحریر فرمادیں؟
المستفتی: عبید اﷲ، بھاگل پوری
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جمعہ کی فضیلتوں میں سے ایک اہم فضیلت یہ بھی ہے کہ جو شخص جمعہ اور جمعرات کی درمیانی رات یاجمعہ کے دن وفات پاتاہے،تو وہ عذاب قبر سے محفوظ ہوجاتاہے۔اور عذاب قبر سے حفاظت کے تین اسباب ہیں،جو حسب ذیل ہیں۔
(۱) عظمت ذات کی وجہ سے عذاب قبر سے حفاظت ہوتی ہے، جیساکہ حضرات انبیاء علیہم السلام، شہداء اور معصوم بچے، اﷲ کے یہاں ان کی ذات کی عظمت ہے، جس کی وجہ سے اﷲ کے یہاں ان کی عذاب قبر سے حفاظت کی جاتی ہے۔
(۲) عظمت عمل کی وجہ سے بھی اﷲ تعالیٰ عذاب قبر سے محفوظ رکھتے ہیں، مثلاً کوئی شخص