ایکسیڈنٹ میں مرنے والا شہید ہے یا نہیں؟
سوال:]۴۰۶۳[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ(۱) خالد موٹر سائیکل سے جارہا تھا کہ راستہ میں پیچھے سے کسی گاڑی والے نے عمداً ٹکر ماردی جس کے نتیجہ میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا تو کیااس صورت میں خالد کوشہادت کا درجہ ملیگایانہیں؟ اگر ملیگا تو شہادت اخروی یا دنیوی یا دونوں او راس کے صغائر وکبائر کے بارے میں کیا حکم ہے، دونوں معاف ہو ں گے یا صرف صغائر ، نیز اگر خالد نے اسی کے ساتھ ساتھ شراب بھی پی رکھی ہو تو کیا حکم ہے ؟
(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ خالد بغیر کسی اراد ہ کے گاڑی کی زد میں آجاتاہے، اور موقع پر ہی وفات ہو جاتی ہے ، تو اس صورت میں کیاحکم ہے ؟ واضح رہے کہ خالد نے دوسری صورت میں شراب نہیں پی رکھی تھی؟
المستفتي:محمد حاکم ، چاند پوری
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:حقیقی معنوں میں شہید وہ ہے جو اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے جہاد کرتے ہوئے قتل کیاجائے یا ظالموں نے اس کو ظلماً قتل کیاہو بقیہ جو ایکسیڈنٹ اور حادثاتی اموات سے مرنے والے ہیں وہ صرف شہید اخروی ہیں ، لہذا ان کو غسل دے کر ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ، اور احادیث میں گناہوں کے معافی کاجہاں بھی تذکرہ ہے مراد صغائر ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کبائر کو بھی معاف کرسکتاہے،ایکسیڈنٹ سے مرنے والا اگر چہ شراب پی کر مرا جب بھی وہ شہید اخروی ہوگا، یہ اور بات ہے کہ اس کوشراب پینے کا گناہ ملیگا، اس تفصیل سے سوالنامہ کی دونوں شکلوں کا جواب آگیا ۔
وقید بالقتل لأنہ لومات حتف أنفہ وابترد أو حرق أو غرق أوہدم لم یکن شہیداً في حکم الدنیا ، وإن کان شہید الآخرۃ۔ ( شامی ، کتاب الصلاۃ،