خاصٌّ بہ ولیس ذلک لغیرہ۔(أوجز المسالک جدید دمشق ۴/۴۴۴، رقم: ۱۴۵۱۸)
وبہذا القید علم أنہا لا تجوز علیٰ غائبٍ ، وأمّا صلٰوتہ علیہ الصلوٰۃ والسلام علی النجاشی فإما لأنہ رفع لہ سریرہ حتی رآہٗ بحضرتہ۔ (حلبي کبیر ، فصل فی الجنائز، اشرفیہ دیوبند/۵۸۳)
فلا تجوز علیٰ غائب ، وأما صلوٰتہ علیٰ النجاشی فإما لأنہ رفع لہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سریرہ حتیٰ رآہ بحضرتہ ، فتکون صلوٰۃ من خلفہ علیٰ میتٍ یراہُ الإمام وبحضرتہ دون المأمومین وہذا غیر مانعٍ من الاقتداء۔ (البحرالرائق ، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ الجنازۃ ، کوئٹہ ۲/۱۸۹، زکریا ۲ / ۳۱۴، ۳۱۵) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۱۵؍محرم الحرام ۱۴۳۵ھ
(الف فتویٰ نمبر:۴۰/۱۱۴۰۰)
غائبانہ نماز جنازہ
سوال:]۳۹۲۱[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ جو مسلمان فسادات میں شہید ہوگئے ہیں ، ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنی چا ہئے یا نہیں ؟ غائبانہ نماز جنازہ کی شرعاً کیا حیثیت ہے ، او ر اس کا شریعت میں ثبوت ہے یانہیں؟ مفصل مع حوالہ جواب سے نوازیں عین کرم ہوگا۔
المستفتي:رئیس احمد ، محلہ دولت باغ ، مرادآباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:حضرت امام ابو حنیفہ ؒ اور امام مالک ؒ کے نزدیک غائبانہ نماز جنازہ نہیں ہے ، اور نہ ہی وہ شرعی طور پر معتبر ہوگی ، اسلئے کہ نماز جنازہ کے صحیح ہونے کیلئے میت کا سامنے موجود ہونا شرط ہے ، اور و ہ شرط یہاں مفقود ہے اور حضور ﷺ