نے حضرت نجاشی ؓ اور حضرت معاویہ بن معاویہ مزنیؓکی جو نماز جنازہ غائبانہ ادا فرمائی ہے اسکی وجہ یہی تھی کہ ان دونوں حضرات کاجنازہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ حضور ﷺ کے سامنے کردیا تھا، اسلئے آپ ﷺ نے اس طرح ادا فرمائی ہے ،کہ بظاہر غائبانہ ہے درحقیقت غائبانہ نہیں ہے ، اور اب یہ خصوصیت کسی کو حاصل نہیں ہے ۔( مستفاد: ایضاح المسائل /۷۲، احسن الفتاویٰ ۴/۲۰۰، فتاویٰ دارالعلوم ۵/۳۴۶)
قال أصحابنا لا یصلی علی میت غائب وقال الشافعیؒ یصلی علیہ استدلالاً بصلوٰۃ النبی ﷺ علی النجاشی وہو غائب ولاحجۃ لہ فیہ لما بینا علی أنہ روی أن الأرض طویت لہ ولا یوجد مثل ذلک فی حق غیرہ الخ۔ (بدائع ، فصل فی صلا ۃ الجناز ۃ ، قبیل فصل بیان کیفیۃ الصلاۃ علی الجنازۃ زکریا۲/۴۸، کراچی قدیم ۱/۳۱۲)
وعن أبی حنیفۃ ؒ والمالکیۃ لا یشرع ذلک الخ۔ (بذل مصری ، الجنائز، باب الصلاۃ علی المسلم بموت فی بلاد الشرک میرٹھ۴/۲۰۸، جدید دارالبشائر الإسلامیہ دمشق ۱۰/۴۹۴، مصری۱۴/۱۷۵، ہکذا شامی ، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ الجنازۃ ، زکریا۳/۱۰۴، کراچی ۲/۲۰۹، البحرالرائق ، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ زکریا۲/۳۱۴، ۳۱۵، کوئٹہ۲/۱۸۹، حلبي کبیر، فصل فی الجنائز، اشرفیہ دیوبند/۵۸۳، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، باب أحکام الجنائز ، فصل الصلاۃ علی المیت ، دارالکتاب دیوبند/۴۷۹) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۱؍شعبان ۱۴۱۳ھ
(الف فتویٰ نمبر:۲۹/۳۲۶۲)
ولی کی اجازت سے پڑھائی گئی نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا
سوال:]۳۹۲۲[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ ہم نے