کچھ دنوں قبل میت کی نماز جنازہ سورج غروب ہونے سے قبل ادا کی تاکہ قبل از مغرب تدفین عمل میں آسکے لیکن کچھ اصحاب نے کہا تدفین میں دیر لگ جائیگی ،مغرب کاوقت بالکل قریب ہے، اس لئے مغرب بعد تدفین کریں گے ، اس پر سب کا اتفاق ہوگیا ، پھر نماز مغرب کے بعد کچھ اورعزیز ورشتہ دار آگئے ، جنھوں نے نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی ، ان لوگوں نے نماز جنازہ دوبارہ پڑھنے پر اصرار کیا تو اس اصرار پر سب لوگوں نے دربارہ نماز جنازہ ادا کی تو سوال یہ ہے کہ ہم لوگ عند اللہ گنہگار تونہیں ہوئے ، نیز دوبارہ نماز جنازہ ادا کی تو یہ ہم حنفیوں کے نزدیک جائز ہے یانہیں ؟
المستفتي:حبیب اللہ تاج ، سعودیہ عرب
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:جب نماز جنازہ ولی کی اجازت وشرکت سے پڑھ لی جائے ، تو دوبارہ میت کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے ، اور یہ بات ظاہر ہے کہ ناجائز کام کاارتکاب موجب گناہ ہے ۔ (مستفاد: فتاویٰ دارالعلوم ۵/۳۴۹)
ولا یصلی علی میت إلا مرۃ واحدۃ والتنفل بصلوٰۃ الجناز ۃ غیر مشروع ۔ (عالمگیری ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز ، الفصل الخامس فی الصلاۃ علی المیت ، زکریا۱/۱۶۳، جدید۱/۲۲۵، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، با ب أحکام الجنائز ، السلطان أحق بصلاتہ ، دارالکتاب دیوبند/۴۸۷)
وإن صلی الولی لم یجز لأحد أن یصلی بعدہ۔(شامی ، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ الجنازۃ کراچی ۲/۲۲۳، زکریا۳/۱۲۴، ہندیہ ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الخامس فی الصلاۃ علی المیت زکریا۱/۱۶۴، جدید۱/۲۲۵) فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۳۰؍ذی الحجہ۱۴۲۱ھ
(الف فتویٰ نمبر:۳۵/۶۹۷۹)