ویوضع فی القبر علی شقہ الأیمن متوجہا إلی القبلۃ ۔ (تاتار خانیۃ ، کتاب الصلاۃ، الفصل الثانی والثلاثون ، الجنائز، القبر والدفن زکریا۳/۹۶۶، رقم: ۳۷۲۹)

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۱۴؍۵؍۱۴۳۵ھ
(الف فتویٰ نمبر:۴۰/۱۱۵۲۵)
میت کو قبر میں دائیں کروٹ قبلہ رخ لٹانا
سوال:]۳۹۴۳[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ حافظ ، عالم، مفتی، پیر، مرشد کو بعد وصال لحد میںکروٹ سے قبلہ رخ رکھا جائے یا عام میت کی طرح؟جواب سے نوازیں عنایت ہوگی؟
المستفتي:حافظ محمد ایوب ، علیگڑھ
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:یہ حکم صرف حافظ عالم مفتی کیلئے نہیں بلکہ عام مسلمانوں کیلئے یہی حکم ہے کہ قبر میںدائیں کروٹ پر قبلہ رخ رکھا جائے ، اس میں عام مسلمان اور حافظ ، عالم ومفتی کا کوئی فرق نہیں ۔
عن عبید بن عمیر عن أبیہ أنہ حدثہ وکانت لہ صحبۃ ، أن رجلا سألہ فقال: یارسول اللہ ( إلی قولہ ) البیت الحرام قبلتکم أحیاء وأمواتاً ۔ (سنن أبي داؤد ، الوصایا ، باب ماجاء فی التشدید فی أکل مال الیتیم ، النسخۃ الہندیۃ ۲/۳۹۷، دارالسلام رقم: ۲۸۷۵، المعجم الکبیر للطبرانی، دار إحیاء التراث العربي۱۷/۴۷، رقم: ۱۰۱، المستدرک ، کتاب الإیمان قدیم ۱/۵۹، مکتبہ نزار مصطفی الباز جدید۱/۸۶، ۸۷، رقم: ۱۹۷، کتاب التوبۃ والإنابۃ قدیم ۴/۲۵۹، جدید ۷/۲۷۳۴، رقم: ۷۶۶۶