تملیک کی بہترین شکل
سوال:]۴۴۶۰[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ(۱) کیا مہتمم طلبہ کا شرعی وکیل ہوتاہے ؟مفصل جواب مطلوب ہے ؟
(۲) زکوٰۃ کی رقم کو مدرسہ کی جملہ مدات میں استعمال کرنے کے لئے وظیفہ کاطریقہ اختیار کرلیا جائے، اور طلبہ سے ماہانہ وظیفہ کے ذریعہ جورقم اکھٹی ہوتی ہے ا س میں مدرسین کی تنخواہیں اور دیگر ضروریات پوری کرلی جائیں، جیسا کہ بعض مدارس میں ایسا بھی ہوتاہے، توکیا اس شکل میں مہتمم اس رقم کو جوزکوٰۃ کی ہے ، جس کو طلبہ کے وظیفہ میں دیدیا ہے ، طلبہ نے اس کو اپنی فیس طعام وغیرہ میں مدرسہ میں جمع کردیا ، مدرسہ کی دیگر ضروریات میں وہ رقم خرچ کر سکتا ہے یانہیں ،فی زماننا اس کا بہترین طریقہ کیاہے ، جو شکوک سے بالا ترہو ، نیز اس مسئلہ میں قرآن وحدیث کاکیاحکم ہے ، اور تعامل صحابہ اور اجماع امت کیاہے ، اس مسئلہ پر تحقیقی نقطۂ نظر سے قلم اٹھائیں ، توذرہ نوازی ہوگی ،کیونکہ حیلۂ تملیک تو رقم کی ہیراپھیری کا نام ہے اس مسئلہ پر معترضین کے منھ کس طرح بند کئے جائیں؟
(الف) طلبہ نابالغ ہوں یا بالغ ہی ہوں ۔ (ب) نابالغ طلبہ کومالک بنانے کی کیاصورت ہے؟(ج) مستطیع طلبہ ہی ہیں یا غیر مستطیع طلبہ کو مالک بنایاجاسکتاہے؟(د) کسی طالب علم کے ورثاء مستحق زکوٰۃ تو نہیں ہیں مگر وہ اپنے بچے کا خرچہ بھی مدرسہ میں نہیں دے سکتے تو اس شکل میں کیاحکم ہے؟ اس پر زکاۃ خرچ کی جاسکتی ہے یا نہیں؟(ہ) اگر طلبہ کے ورثاء سے لکھوادیاجائے کہ ہم خرچہ برداشت نہیںکرسکتے ہیں، تو کیا ان طلبہ پر زکاۃ خرچ کی جاسکتی ہے یانہیں؟ (و) کیایہ بھی درست ہے کہ بیرونی طلبہ جو نابالغ ہوں انکے وارثین کی طرف سے کسی کو سرپرست بنایا جائے اور وہ سرپرست بیت المال سے ان طلبہ کے وظیفہ کی شکل میں رقم لیکر مدرسہ میں جمع کرادے اور مدرسہ اس رقم کو تنخواہ وجملہ مدات میں صرف کرلے؟
المستفتي:محمد اظہار الحق مظہر القاسمی،