اجازت نہیںہے ، لہٰذا آپ کا مدرسہ اگر ایسا ہے کہ اس میں بیرونی طلبہ رہتے ہیں، اورحدیث تفسیر فقہ اور حفظ قرآن کی تعلیم ہوتی ہے اس میں وہ ساری مشکلات ہیں جوہم نے ذکر کیا ہے ، توگنجائش ہے ورنہ مطلقاً اس کی اجازت نہیں ہے ۔
وأما الاحتیال لإبطال حق المسلم فإثم وعدوان عن محمد بن الحسن قال لیس من أخلاق المؤمنین الفرار من أحکام اللہ بالحیل الموصلۃ إلیٰ إبطال الحق الخ۔ (عمدۃ القاری ، کتاب الحیل ،داراحیاء التراث العربي ۲۴/۱۰۹، زکریا۱۶/۲۳۹، تحت رقم الحدیث:۶۹۵۳) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۲۰؍صفر۱۴۱۹ھ
(الف فتویٰ نمبر:۳۳/۵۶۴۵)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۲۰؍۲؍۱۴۱۹ھ
تملیک کے بعد زکوٰۃ کی رقم مسجد میں صرف کرنا
سوال:]۴۵۰۵[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ مسجد کی آمدنی اخراجات سے کم ہے اس میں حیلہ کرکے زکوٰۃ کی رقم استعمال کرسکتے ہیں یانہیں ؟
المستفتي:حاجی محمد یسیین ، احمدآباد ، گجرات
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:زکوٰۃ درحقیقت فقراء ومساکین کا حق ہے سخت مجبوری اور شدید شرعی ضرورت کی بنا پر ہی علماء نے بعض صورتوں میں حیلہ اختیار کرنے کی اجاز ت دی ہے، مسجد کے اخراجات کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے کہ جس میں کمی کرنے سے کوئی شرعی حرج لازم آتاہو لہٰذا ایسی صورت میں حیلہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
لیس من أخلاق المؤمنین الفرار من أحکام اللہ بالحیل الموصلۃ إلیٰ إبطال الحق ۔ (عمدۃ القاری ، داراحیاء التراث العربی ۲۴/۱۰۹، زکریا۱۶/۲۳۹،