لیکن آپ خود دیانت داری کے ساتھ سوچ لیں کہ تعدی ہوئی ہے یانہیں ، اگر تعدی ہوئی ہے تو آپ پر ضمان واجب رہے گا۔
إَنَّ اللہ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوْا الأَمَانَاتِ إِلیٰ أَہْلِہَا۔ (النساء : ۵۸)
عن عمر و بن شعیب عن أبیہ ، عن جدہ، قال: قال رسول اللہ ﷺ : من أودع ودیعۃ فلا ضمان علیہ ۔ (سنن ابن ماجہ ، باب الودیعۃ ،النسخۃ الہندیۃ ۱/۱۷۳، دارالسلام رقم :۳۴۰۱) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۱۲؍رمضان المبارک۱۴۰۷ھ
(الف فتویٰ نمبر:۲۳/۲۲۴)
محصلین کاواجب التملیک اورغیر واجب التملیک رقم کو ایک ہی جیب میں رکھنا
سوال:]۴۵۳۴[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ مدرسہ کی طرف سے جن کو چندہ وصولی کیلئے بھیجا جاتاہے، وہ زکوٰۃ وصدقات نافلہ وعطایا سب قسم کے روپئے وصول کرتے ہیں، تو رقوم واجب التملیک اور غیر واجب التملیک کو ایک جیب میں ایک ساتھ خلط ملط کرکے رکھنا درست ہے یادونوں کو علیٰحدہ رکھنا ضروری ہے باحوالہ تحریر کریں؟
المستفتي:شہید اللہ ، ہاوڑوی ، بردوان
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہٰ التوفیق:روپیہ پیسہ ایسے دیون میں سے ہے جو تعین کے باوجود متعین نہیں ہوتے ہیں، تو ایسی چیزوں کے اندر الگ الگ رکھنے کا حکم حساب وکتاب میں ہوتاہے، زکوٰۃ وصدقات واجبہ کاحساب بالکل الگ رکھے اور امداد اور نفلی صدقہ وخیرات کا حساب اس سے الگ مستقل فہرست بناکر رکھے اورحساب وکتاب میں بہت مضبوطی کیساتھ رہے تو ایسی صورت میں نوٹوں کا مخلوط ہوجانا ممنوع نہیں ہے، جیسا کہ مد زکوٰۃ کے پیسوں کو منی آرڈر کرنے میں ڈرافٹ بھیجنے میں مدرسہ کے دفتر میں بعینہ وہی نوٹ نہیں آتے