باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر شادی کے لائق ہونے کے بعد والدین اپنی لاپروائی سے شادی نہ کریں، تو لڑکے کو اپنی شادی خود کرنے کا حق ہے۔ اور اگر ماں باپ کی رکاوٹ کی وجہ سے شادی نہ کرسکے اور لڑکا خدا نخواستہ کسی گناہ میں مبتلا ہوجائے تو اس گناہ کا وبال والدین پر ہوگا۔
عن أبي سعید وابن عباس قالا: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وأدبہ، فإذا بلغ فلیزوجہ، فإن بلغ ولم یزوجہ فأصاب إثما فإنما إثمہ علی أبیہ۔ (شعب الإیمان، باب في حقوق الأولاد والأہلین، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۴۰۱، مشکوۃ ۲/ ۲۷۱) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۲؍ ۱؍ ۱۴۱۵ھ
(الف فتویٰ نمبر: / ۳۸۱۳)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۱۲؍ ۱؍ ۱۴۱۵ھ
خطبۂ نکاح

سوال ]۵۱۷۱[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: جیسا کہ نکاح کے لئے ولی اور گواہوں کا ہونا ضروری ہے، تو آپ ہی بتائیے کہ حضرت نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا نکاح ہوا، تو اس وقت خطبہ کس نے پڑھایا تھا؟ حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے نکاح کے علاوہ کسی نکاح میں گواہ اور ولی کا کوئی ثبوت ہی نہیں ملتاہے، اور نہ اس کا ثبوت ملتا ہے کہ خطبہ کون پڑھا تو کیا نکاح بغیر خطبہ گواہ اور ولی کے صحیح ہوسکتا ہے؟ اس کے علاوہ یہ بھی بتائیے کہ بلوغ سے پہلے کسی لڑکی کا نکاح کرانا صحیح ہے یانہیں؟ نکاح ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا نکاح نابالغی کی حالت میں کیسے ہوا تھا؟
المستفتی: محمد فاروق اسماعیل محمد جعفر بلڈنگ، ممبئی