باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زید کا اپنی چچازاد بہن سے نکاح شرعاً درست ہے؛ اس لئے کہ دونوں عاقل بالغ اور شرعی احکام کے مکلف ہیں اوران کا اولیاء کی اجازت کے بغیر بھی نکاح درست ہوجائے گا ؛ لیکن گواہوں کا موجود ہونا اور سننا شرط ہے، دستخط شرط نہیں ہے؛ لہٰذا رجسٹر پر غلط نام درج کرنے سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ولاینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاہدین حرین، عاقلین، بالغین مسلمین رجلین، أورجل و امرأتین عدولا کانوا أوغیر عدول۔ (ہدایۃ، کتاب النکاح اشرفیۃ دیوبند ۲/۳۲۶)
ینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاہا أي بعقدہا الدال علی رضاہا۔ (العنایۃ، اشرفیۃ دیوبند ۳/۲۴۷، الکفایۃ، اشرفیۃ دیوبند ۳/۴۶) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۲۰؍ رجب المرجب ۱۴۳۴ھ
(فتویٰ نمبر: الف۴۰ ؍۱۱۲۰۶)
بالغ لڑکے اور لڑکی کاوالدین کی رضا مندی کے بغیر نکاح کرنا

سوال ]۵۷۸۵[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہیں اور عقلمند و سمجھدار ہیں اور دونوں کی عمر تقریباً ۲۰؍ ۲۱؍سال ہے، ان دونوں نے اپنی مرضی سے گواہ اور وکیل کی موجودگی میں قاضی کے روبرو اپنا نکاح کرلیاہے، مگر لڑکی کے ماں باپ رشتہ دار وغیرہ راضی نہیں ہیں اور انہوں نے لڑکی کا دوسرا نکاح کسی اور مقام پر لے جاکر زبردستی کسی کے ساتھ کرادیا ہے۔ کیا یہ دوسرا نکاح جائز اور صحیح ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو اس دوسرے نکاح کے گواہ وکیل جن لوگوں کے علم میں یہ بات ہے کہ لڑکی کا