توایسی صورت میں شرعی قاضی پر لازم تھا کہ شوہر کے حق میں فیصلہ کر دیتے؛ لیکن چونکہ اس حالت میں زینب کی عدت بھی گزر گئی ہے تو دونوں کے درمیان مکمل طور پر تفریق واقع ہو چکی ہے، اب اس کے بعد قاضی کا فیصلہ بھی شوہر کے حق میں معتبر نہ ہوگا، اب دوبارہ نکاح کی بات جب سامنے آتی ہے تو اس بارے میں زینب کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس نے واقعۃً تین طلاق اپنے کان سے سنی ہیں تو اس کے لئے سابق شوہر کے ساتھ بغیر حلالہ کے نکاح کرنا قطعی طور پر جائز نہیں ہوگا اور عدت پوری ہونے سے پہلے بھی شریعت کا حکم یہ تھا کہ عورت نے اگر تین طلاق اپنے کان سے سن رکھی ہیں تو خلع وغیرہ کوئی بھی حیلہ کرکے اس شوہر سے چھٹکارہ حاصل کرنا عورت پر لازم تھا اور اب چھٹکارہ حاصل ہو جانے کے بعد اس شوہر سے نکاح کرنا قطعی طور پر جائز نہیںہو سکتا۔
والمرأۃ کا لقاضی إذا سمعتہ أو أخبرہا عدل لا یحل لہا تمکینہ والفتویٰ علی أنہ لیس لہا قتلہ ولا تقتل نفسہا بل تفدی نفسہا بمال، أوتھرب۔ (شامی، کتاب الطلاق، مطلب فی قول البحر، إن الصریح یحتاج فی وقوعہ دیانۃ إلی النیۃ، زکریا دیوبند ۴/۴۶۳، کراچی ۳/۲۵۱، ومثلہ فی الہندیہ زکریا قدیم ۱/۳۵۴، جدید ۱/۴۲۲، البحر الرائق زکریا دیوبند۳/۴۴۸، کراچی ۳/۲۵۷) فقط و اللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۸؍ ربیع الثانی ۱۴۳۵ھ
(فتویٰ نمبر: الف ۱۰؍۱۱۴۷۸)
جھوٹی گواہی سے طلاق کو ثابت کرنا

سوال ]۶۸۰۲[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ زید کی شادی ہندہ کے ساتھ ہوئی، دونوں ایک محلہ کے رہنے والے ہیں، کچھ دن کے بعد ہندہ کے ساتھ غلط برتائو ہونے لگا، زید ایک شخص کے یہاں ملازمت