(۳) کیا بچے کی پرورش کا ذمہ میرے اوپر لازم ہے؟
(۴) کیا وہ بچے کی پرورش کے نام پر اپنے میکے میں ہی رہ کر خرچہ مانگنے کی حقدار ہے؟
(۵) کیا وہ میرے اور میرے گھر والوں کے ذریعہ شادی کے موقعہ پر چڑھائے گئے زیورات، کپڑے وغیرہ کی مالک ہے؟ کیا میں ان کو واپس مانگنے کا حقدار ہوں؟جبکہ وہ خود اپنی مرضی سے طلاق مانگ رہی ہے؟
(۶) کیا میری بیوی کے مجھ سے ایک سال سے علیٰحدہ رہنے اور کوئی کلام یا کسی طرح کا کوئی تعلق نہ رکھنے نیز طلاق کا مطالبہ کرنے اور اپنے اس فیصلے پر قائم رہنے سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
(۷) طلاق زبان سے دینا لازم ہے یا پھر تحریری طور پر بھی دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟
(۸) کیا عورت کے طلاق طلاق کو لکھ کر تحریری طور پر شوہر کو خلع نامہ بھیج دینے سے بھی طلاق واقع ہو جائے گی؟
المستفتی: نور حسین
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: (۱) پہلی رات میں مہر معاف کرانے سے معاف نہیں ہوتا، اس لیے کہ اس رات میں شرما حضوری اور لاج میں مجبوری کی صورت ہوتی ہے، اس لیے پہلی رات میں معافی کا اعتبار نہیں، لہٰذا اس کے مہر کا حق بدستور باقی ہے اور بغیر کسی خاص وجہ کے، اگر طلاق لینے پر مصر ہے، تو شوہر کو اس بات کی شرط لگانے کی گنجائش ہوجاتی ہے کہ مہر کے بدلہ اور مہر کو معاف کرنے کی شرط پر طلاق دی جائے، اور ایک طلاق سے بھی طلاق ہو جاتی ہے، تین طلاق کی ضرورت نہیں۔
وإن طلقہا علی مال فقبلت وقع الطلاق و لزمہا المال۔ (ہدایہ، کتاب الطلاق، باب الخلع، اشرفی دیوبند ۲/۴۰۵، ہندیہ زکریا قدیم ۱/۴۹۵، جدید ۱/۵۵۴)