ناشزہ بیوی کو طلاق اور عدت و مہر کا حکم

سوال ]۷۳۵۹[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں :(۱) شوہر سے بیوی طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اور شوہر اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو ان حالات میں اگر بیوی کی ضد اور مطالبہ پر طلاق دی جائے تو مہر دینے ضروری ہیں یا مہر معاف کرنے کی شرط لگائی جا سکتی ہے؟
(۲) اور طلاق کی صورت میں عدت کا خرچہ شوہر پر لازم ہے یا نہیں ؟ جبکہ بیوی نافرمان اور ناشزہ ہے اور اپنے میکہ میں رکی ہوئی ہے؟
المستفتی: ایم کلیم، مینا نگر جینتی روڈ، مرادآباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب بیوی طلاق لینے کے لیے بضد ہے اور شوہر طلاق دینا نہیں چاہتا تو ایسی صورت میں شوہر کے لیے یہ شرط لگانا جائز اور درست ہے کہ مہر معاف کرنے کی شرط پر طلاق دے گا اور پھر بیوی شوہر سے مہر کا مطالبہ نہیں کرے گی، اور اگر مہر ادا کردیا گیا ہے تو اس کو واپس کرنے یا اتنی مقدار مال یا روپیہ دینے کی شرط پر طلاق دے سکتا ہے۔
وان طلقہا علی مال فقبلت وقع الطلاق و لزمہا المال و کان الطلاق بائنا۔ (ہدایہ، کتاب الطلاق، باب الخلع، اشرفی دیوبند ۲/۴۰۵، ہندیہ قدیم ۱/۴۹۵، جدید ۱/۵۵۴)
وإن خالعہا علی مہرہا فإن کانت المرأۃ مدخولا بہا وقد قبضت مہرہا یرجع الزوج علیہا بمہرہا۔ (ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثامن فی الخلع، الفصل الاول، قدیم ۱/۴۸۹، جدید ۱/۵۴۹)
(۲) جب عورت بلا ظلم و زیادتی کے طلاق لینے پر بضد ہے اور شوہر سے الگ رہ رہی ہے تو وہ ناشزہ ہے اور ناشزہ کی عدت کا خرچہ شوہر پر لازم نہیں ہے۔