۱۵۰؍ مرتبہ قسم توڑنے کا کفارہ

سوال ]۷۴۳۹[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں :قسم کھائی کہ فلاں حرام کام نہیں کروں گا لیکن اس حرام کام کو غالباً ۱۵۰؍ مرتبہ کیا تو اس کا کفارہ کتنا ہوگا؟
المستفتی: محمد رفیع کاشی پوری
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سب کا ایک کفارہ ادا کرنا کافی ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ دار العلوم ۱۲/۸۸)
کفارات الأیمان، إذا کثرت تداخلت، ویخرج بالکفارۃ الواحدۃ عن عہدۃ الجمیع، وقال شہاب الأئمۃ: ہذا قول محمد، قال صاحب الأصل: ہو المختار عندی۔ (شامی، کتاب الأیمان، مطلب: تتعدد الکفارۃ لتعدد الیمین، زکریا ۵/۴۸۶، کراچی ۳/۷۱۴)فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۴؍ شوال ۱۴۱۷ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۲/۴۹۹۸)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۱۴؍ ۱۰؍۱۴۱۷ھ
کفارۂ قسم ادا کرنے کا طریقہ

سوال ]۷۴۴۰[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : ایک شخص نے غصہ میں قسم کھائی تھی کہ میں گھر نہیں جاؤں گا، تو ان کے عزیز ان کو پکڑ کر لے آئے گھر کے اندر، لہٰذا قسم ٹوٹ چکی ہے، اب کفارہ ادا کرنا ہے وہ کیسے ادا کریں ، کیونکہ اس سے پہلے کفارہ کے متعلق معلوم کیا تھا، تو آپ نے فرمایا تھا کہ پانچ آدمی صبح کو اور پانچ شام کو کھلادیں ، لیکن گھر پر کھانے کا کوئی بند و بست نہیں اب کیا کریں ، کیا کھانے کی