(۳) بکر نے دوکاندار کو حلال تجارت بیچ کر رقم زید کو دی؛ لیکن زید نے مذکورہ رقم نہیں لی اور وہ رقم بکر کے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔
(۴) وہ رقم لے کر بکر تنہا آرہا تھا کہ وہ رقم راستے میں لوٹ لی گئی۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ رقم کے متعلق حکم شرعی کیا ہے؟ آیا بکر کے ذمہ اس رقم کی ادائے گی زید کو واجب ہے یا نہیں ؟ جبکہ بکر پہلے سے مقروض چل رہا ہے، وہ کس طرح ادائے گی کرے؟
.5المستفتی.5: .5محمدفاضل، پینٹھ، اتوار، سرائے ترین، سنبھل، مرادآباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زید اور بکر کا آپس میں یہ معاملہ مضاربت ہے، جس میں نفع ونقصان جانبین میں سے ہر ایک کی طرف منسوب ہوتا ہے؛ لہٰذا مال کی خرابی کی بناء پر نفع میں جو کمی ہوئی ہے، اس میں زید اوربکرو دونوں برابر کے شریک ہوں گے اورزید کا کمی کی وجہ سے رقم لینے سے انکار کرنا درست نہیں ہے، اور اس سے عقد مضاربت پر کوئی اثر نہیں پڑا، اس کے بعد جب بکر کے پاس سے وہ ساری رقم لٹ گئی، ہلاک ہوگئی، توبکر زید کے حصہ کا ضامن نہ ہوگا۔
نیز جو رأس المال ہلاک ہوا ہے، وہ بھی رب المال یعنی زید ہی کے پا س سے گیا، بکرپر اس کا ضمان بھی لازم نہیں ہے۔
وان ہلک أحد المقتسمین قبل أن یقبض رب المال نصیبہ ہلک من مالہما جمیعاً۔ (ہندیۃ، کتاب المضاربۃ، الباب الثالث في الرجل یدفع المال الخ زکریا قدیم ۴/۲۹۰، جدید ۴/۲۹۸)
وإن قسم الربح وبقیت المضاربۃ، ثم ہلک المال أوبعضہ ترادّا الربح لیأخذ المالک رأس مالہ، وما فضل فہو بینہما، وإن نقص لم