اس میں تصرف کرنا فرقان کے لئے کسی طرح جائز نہیں تھا، یہ امانت میں خیانت ہے، پھر اس کے بعد امانت طلب کرتے وقت اس کا انکار کرنا یا اس کے دینے میں ادھر ادھر ٹال مٹول کرنا حرام اور ناجائز ہے، محمد فرقان کے اوپر لازم ہے کہ فوری طور پر محی الاسلام کی امانت واپس کردے، نیز اس امانت کا جو بھی حصہ فرقان دے رہا ہے محی الاسلام کے لئے اس کا لینا جائز ہے، اگر فرقان امانت کی ادائے گی میں لاپرواہی کرے گا یا انکار کرے گا، تو عذاب عظیم کا مستحق ہوگا، نیز جھوٹی قسم کھائے گا تو مزید اکبر الکبائر کا مرتکب ہوگا۔
اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَہْلِہَا۔ [النساء: ۵۸]
قال رسول اﷲ ﷺ: من اقتطع مال امرء مسلم بیمین کاذبۃ لقي اﷲ وہو علیہ غضبان۔ الحدیث (بخاري شریف، کتاب التوحید، باب قول اﷲ وجوہ یومئذ ناظرۃ ۲/ ۱۱۰۹، رقم: ۷۱۴۵، ف: ۷۴۴۵، مسلم شریف، کتاب الایمان، باب وعید من اقتطع حق مسلم بیمین فاجرۃ بالنار، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۸۰، بیت الأفکار، رقم: ۱۳۸، أبوداؤد شریف، کتاب الأیمان والنذور، باب في من حلف لیقتطع بہا مالا، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۴۶۲، داالسلام، رقم: ۳۲۴۳)
عن عمران بن حصین قال: قال النبي ﷺ من حلف علی یمین مصبورۃ کاذبا، فلیتبوأ بوجہہ مقعدہ من النار۔ (أبوداؤد شریف، کتاب الأیمان والنذور، باب التغلیظ في الیمین الفاجرۃ، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۴۶۲، دارالسلام، رقم: ۳۲۴۲، مسلم شریف، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۸۰، بیت الأفکار، رقم: ۱۳۸)
قال رسول اﷲ ﷺ: الکبائر: الإشراک باﷲ، والیمین الغموس۔ (صحیح البخاري، کتاب الأیمان والنذور، باب الیمین الغموس ۲/ ۹۸۷، رقم: ۶۴۱۹، ف: ۶۶۷۵) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۹؍ ربیع الثانی ۱۴۲۲ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۵/ ۷۱۵۸)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۱۰؍ ۴؍ ۱۴۲۲ھ