باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: برتقدیر صحت سوال جب کہ عبدالحمید نے اپنی زندگی میں اپنے دو لڑکوں محمد یونس اور عبدالقیوم کے نام جو مکان بیع نامہ کرا دیا تو شرعاً محمد یونس اور عبدالقیوم اس مکان کے مالک ہیں ، باپ کے مرنے کے بعد اس میں دیگر ورثاء کا کوئی حق نہیں ہے۔ اور عبدالقیوم نے بارہ ہزار روپئے لے کر جو اپنا حصہ محمد یونس کو دے دیا، تو اب شرعاً پورے مکان کا مالک محمد یونس ہے، آدھے کا باپ کے بیع نامہ کر دینے سے اور آدھے کا شریک بھائی سے خرید لینے کی وجہ سے، اب اس حصہ پر محمد یعقوب کا قبضہ شرعاً درست نہیں ہے؛ بلکہ ملک غیر میں تصرف ہے جو جائز نہیں ۔ حدیث شریف میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔
عن سعید بن زید قال: قال رسول اﷲ ﷺ: من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین۔ (مسلم شریف، باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرہا، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۳۳، بیت الأفکار، رقم: ۱۶۱۰، صحیح البخاري، باب ماجاء في سبع أرضین، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۴۵۴، رقم: ۳۰۹۴، ف: ۳۱۹۸) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم


کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۴؍ محرم الحرام ۱۴۲۱ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۴/ ۶۴۱۸)
موہوب لہ کے لئے ہبہ کے بعد ملکیت کا ثبوت


سوال ]۹۴۳۱[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : (۱) زید کی تین لڑکیاں تھیں ، لڑکا کوئی نہیں تھا، زید کے انتقال کے وقت تینوں لڑکیاں حیات تھیں ، زید کی وفات پر زید کے ان رشتہ داروں نے جن کا حصہ زید کی جائیداد میں ہوتا تھا، انہوں نے اپنا حصہ زید کی تینوں لڑکیوں کے حق میں برابر برابر چھوڑ دیا، یعنی اپنا حصہ نہیں