اس بچی کو بطور شفقت کے آپ اپنی مرضی سے اپنی ملکیت میں سے جو چاہیں ، جتنا چاہیں دے سکتے ہیں ، آخرت میں آپ کے اوپر اس بارے میں کسی قسم کی داروگیر نہ ہوگی۔
المالک ہو المتصرف في الأعیان المملوکۃ کیف شاء۔ (بیضاوي ۶)
الملک ما من شأنہ أن یتصرف فیہ بوصف الاختصاص۔ (شامي، البیوع، مطلب في تعریف المال، زکریا ۷/ ۲۳۵، کراچی ۵/ ۵۰)
أما إذا کان الولد أنثی، فإن نفقتہا تجب علی والدہا سواء کانت صغیرۃ أو کبیرۃ۔ (الفقہ علی المذاہب الأربعۃ مکمل، ص: ۱۰۹۰)
قال مشایخ بلخ: الإرث یثبت بعد موت المورث۔ (البحرالرائق، کتاب الفرائض، زکریا ۹/ ۳۶۴، کوئٹہ ۸/ ۴۸۸) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۶؍ محرم الحرام ۱۴۳۵ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۴۰/ ۱۱۳۸۳)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۱۶؍ ۱؍ ۱۴۳۵ھ
یتیم پوتے پوتیوں کے ساتھ حسن سلوک کا طریقہ


سوال ]۹۴۵۷[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : ایک لڑکے کا انتقال ہوگیا اپنے باپ کی زندگی میں ، اس لڑکے کی اولادیں موجود ہیں ، اور دیگر بھائی بہن بھی ہیں ، تو دادا کو اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے؟ کیا جائیداد سے کچھ دینا چاہئے یا اس حقیقی اولاد کو دیں ؟
المستفتی: عبداﷲ، مرادآباد
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایسی صورت میں دادا کو چاہئے کہ مرحوم بیٹے کی اولاد کو جتنا حصہ بھی دینا ہوگا اتنے کا ہبہ کرکے ان کو قبضہ دے کر مالک بنا دے، اس طرح مرحوم بیٹے کی اولاد محروم نہ ہوں گی، اگر ایسا نہ کیا گیا تو دادا کے انتقال کے بعد پوتیوں کو کچھ بھی نہ ملے گا۔