اور اگر وہ غریب ہے تو اس کے لیے ایسی مشترکہ نیت سے جانور خریدنا اور ذبح سے پہلے اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا ہر حال میں مکروہ ہے، کیونکہ اس کے حق میں بنیت قربانی خریدا ہوا جانور قربانی کے واسطے متعین ہو کر نذر کے حکم میں ہو جاتا ہے اور ہر حال میں اس پر اسی کی قربانی واجب ہے۔
ولو اشتریٰ شاۃ للأضحیۃ یکرہ أن یحلبہا أو یجز صوفہا فینتفع بہ لأنہ عینہاللقربۃ فلا یحل لہ الانتفاع بجزء من أجزائہا قبل إقامۃ القربۃ بہا کما لا یحل لہ الانتفاع بلحمہا، إذا ذبح قبل وقتہا۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الأضحیۃ، الباب السادس فی بیان ما یستحب فی الأضحیۃ والانتفاع بہا، زکریا قدیم ۵/۳۰۰، جدید ۵/۳۴۷، بدائع الصنائع زکریا ۴/۲۱۹، کراچی ۵/۷۸)
(ب) ایام قربانی سے پہلے اگر کوئی ضرورت شدیدہ پیش آجائے تو مالدار کے لیے بنیت قربانی خریدے ہوئے جانور کو ذبح کرنا یا بیچ کر اس کا پیسہ استعمال کرنا بلا کراہت جائز ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے میں دوسرے جانور کی قربانی کی نیت ہو اور غریب کے لیے کسی حال میں بھی قربانی سے قبل انتفاع جائز نہیں ۔
إن المشتراۃ للأضحیۃ متعینۃ للقربۃ إلی أن یقام غیرہا مقامہا۔ (شامی، کتاب الأضحیۃ، زکریا ۹/۴۷۶، کراچی ۶/۳۲۹، بدائع الصنائع کراچی ۵/۷۸، زکریا ۴/۲۲۰)
(ج) قربانی سے پہلے اگر وہ جانور اتنا بیمار ہو جائے کہ قربانی کے قابل نہ رہے تو مالک اگر مالدار ہے تو اس پر اس کے بدلے میں دوسرے جانور کی قربانی واجب ہے اور اگر وہ فقیر ہے تو اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہے۔
ولو اشتریٰ أضحیۃ وہی صحیحۃ العین ثم أعورت عندہ وہو مؤسر (إلی قولہ) لا تجزی عنہ وعلیہ مکانہا أخریٰ بخلاف الفقیر وفی موضع: وفی حق المعسر تجوز علی کل حال۔ (ہندیہ، کتاب الأضحیۃ، الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب، زکریا قدیم ۵/۲۹۹، جدید ۵/۳۴۵، بدائع الصنائع کراچی ۵/۷۶، زکریا ۴/۲۱۶) فقط واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۶؍ جمادی الثانیہ ۱۴۲۰ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۴/۶۲۱۱)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ
۱۷؍۶؍۱۴۲۰ھ