قربانی کی نیت سے خریدے گئے بکرے کو عقیقہ کے لیے رکھنے کا حکم

سوال ]۹۹۸۶[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : ایک بکرا قربانی کے لیے خریدا مگر اس بکرے کو عقیقہ کے لیے رکھ لیا اور کسی بڑے جانور میں قربانی کا ایک حصہ لے لیا تو کیا ایسا کرنا صحیح اور درست ہے یا نہیں ؟
المستفتی: محمد صلاح الدین نوہٹہ سہرسا بہار
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر آپ اس قدر سرمایہ دار ہیں کہ آپ پر قربانی کرنا واجب ہے اور اس واجب کی ادائیگی کے لیے آپ نے بکرا خریدا ہے تو ایسی صورت میں آپ کو اختیار ہے چاہے اس بکرے کو قربانی کے لیے رکھیں یا عقیقہ کے لیے ارادہ کریں یا اسے بیچ دیں ، اور پھر واجب قربانی کی ادائیگی کے لیے کسی بڑے جانور میں حصہ لے لیں اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
ووجہہ أن نیۃ التعیین قارنت الفعل وہو الشراء فأوجبت تعیین المشتری للأضحیۃ إلا أن تعیینہ للأضحیۃ لا یمنع جواز التضحیۃ بغیرہا۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیۃ، باب کیفیۃ الوجوب، زکریا ۴/۲۰۲، کراچی ۵/۶۸)
إذا اشتریٰ شاۃ ینوی بہا الأضحیۃ ففی ہذا الوجہ فی ظاہر الروایۃ لاتصیر أضحیۃ مالم یوجبہا بلسانہ۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۱۷/۴۱۲، رقم: ۲۷۶۷۱) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۷؍ ذی قعدہ ۱۴۳۲ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۹/۱۰۵۲۸)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ
۱۷؍ ۱۱؍ ۱۴۳۲ھ
فقیر کا ایامِ نحر سے قبل خرید کردہ جانور کو بدلنا

سوال ]۹۹۸۷[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے