بارے میں : کہ اگر فقیر نے ایامِ نحر سے پہلے قربانی کے ارادے سے کوئی جانور خریدا ہو پھر اس کا ارادہ بدل جائے کہ اس جانور کو بیچ کر دوسرا جانور اس کے بدلے میں لے کر قربانی کردے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
اسی طرح اگر فقیر خریدنے کے بعد پچھتا نے لگے اور یہ ارادہ کرلے کہ اسے بیچ کر اس کا پیسہ گھر کی ضرورت میں استعمال کروں گا تو ایسا کرنا فقیر کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟
المستفتی: محمد یعقوب غازی آبادی


باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:فقیر نے جو جانور ایامِ نحر سے پہلے قربانی کے ارادے سے خریدا ہے اب اس جانور کو اس کے لیے بدلنا جائز ہے یا نہیں ؟ اسی طرح خریدنے کے بعد پچھتانے لگے تو اسے بیچ کر اس کا پیسہ اپنی ضرورت میں استعمال کرنا چاہے تو ایسا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ تو یہ بات قابل غور ہے، اس کے بارے میں فتاویٰ دار العلوم قدیم ۷۲۰، عزیز الفتاویٰ میں مفتی عزیز الرحمن صاحب کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر ایامِ نحر سے پہلے فقیر نے قربانی کے ارادے سے جانور کو خریدا ہے تو اس کا بدل دینا جائز ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایام نحر سے پہلے خریدنے کی وجہ سے فقیر کے اوپر نہ اس کی قربانی واجب ہوئی اور نہ ہی فقیر کی طرف سے خریدنے کی وجہ سے نذر منعقد ہوئی، لہٰذا اس فقیر کے لیے اس کا بدلنا بھی جائز ہوا اور یہ بھی جائز ہوا کہ اس جانور کو بیچ کر اس کا پیسہ اپنی ذاتی ضروریات میں خرچ کرے، حضرتؒ نے اس کے جواز میں شامی کی یہ عبارت دلیل کے طور پر پیش فرمائی ہے:
ووقع فی التاتارخانیۃ: التعبیر بقولہ شراہا لہا أیام النحر وظاہرہ أنہ لو شراہا لہا قبل لاتجب۔ (شامی، کتاب الأضحیۃ، زکریا ۹/۴۶۵، کراچی ۶/۳۲۱)
حضرت کے زمانہ میں فتاویٰ تاتارخانیۃ طبع ہو کر شائع نہ ہوسکا تھا، اس لیے حضرت مفتی صاحبؒ اصل کی طرف مراجعت نہ کرسکے، اور اب الحمد للہ فتاویٰ تاتارخانیۃ مکمل شائع ہو کر عام ہوچکا ہے، اس لیے اصل کی طرف مراجعت ضروری ہے، فتاویٰ تاتاخانیۃ کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے: