وفی العتابیۃ: المختار أن الفقیر لو اشتراہا بنیۃ التضحیۃ فی أیام النحر تصیر التضحیۃ واجبۃ فی حقہ وإن لم یقل بلسانہ شیئا فی جواب ظاہر الروایۃ ہذا اختیار الصدر الشہید وعلیہ الفتویٰ۔ (تاتارخانیۃ زکریا ۱۷/۴۱۲، رقم: ۲۷۶۶۹)
اس عبارت میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ فقیر نے ایامِ نحر میں قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا ہے تو اس کی قربانی اس کے اوپر واجب ہو جاتی ہے اگر چہ اس نے اپنی زبان سے قربانی کی صراحت نہ کی ہو اور یہی مفتی بہ قول ہے، اب اس عبارت پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایامِ نحر میں خریدنے کی صورت میں فقیر کے حق میں وہ جانور اضحیہ منذورہ بن جاتا ہے، جس بناء پر نہ ا س کے لیے اسے بدلنا جائز ہے اور نہ ہی اس کو بیچ کرکے اس کا پیسہ اپنی ضرورت میں خرچ کرنا جائز ہے، اور حضرت مفتی صاحب نے آگے کی جو عبارت شامی سے نقل فرمائی ہے کہ:
وظاہرہ: أنہ لو اشتراہا لہا قبلہا لاتجب۔
یہ عبارت فتاویٰ التاتارخانیۃ میں نہیں ہے، بلکہ علامہ شامی نے تاتارخانیہ کی عبارت سے مفہوم مخالف کے طور پر اپنی طرف سے لکھا ہے، اس لیے ایام نحر سے پہلے خرید کردہ جانور سے متعلق صراحت کے ساتھ کسی بھی فقہ کی عبارت میں موجود نہیں ہے، ہاں البتہ فتاویٰ تاتارخانیہ اور محیط برہانی میں شمس الائمہ سرخسی اور شمس الائمہ حلوانی اور زعفرانی کے حوالہ سے یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ فقیر نے اگر قربانی کی نیت سے قربانی کا جانور خرید لیا ہے تو قربانی کی نیت سے خریدنے کی وجہ سے اس کے اوپر اس جانور کی قربانی واجب نہیں ہے، اور اگر زبان سے صراحت کردی ہے کہ میں اس کی قربانی کروں گا تب قربانی کرنا واجب ہوتا ہے، تو ان فقہاء کرام کی صراحت کے مطابق جب اس کی قربانی کرنا واجب نہ ہوا تو اس کا بدلنا بھی جائز ہوا، اور اس کو بیچ کر اس کاپیسہ اپنی ضرورت میں استعمال کرنا فقیر کے لیے جائز ہو جائے گا اور اس میں ان فقہاء کی طرف سے ایام قربانی سے پہلے یا ایام قربانی کے درمیان میں خریدنے کی کوئی صراحت نہیں بلکہ مطلق ہے، لیکن چونکہ آگے عتابیہ کے حوالہ سے ایامِ قربانی میں خریدنے کی صراحت آرہی ہے، اس لیے اس مطلق حکم کو ایام قربانی سے پہلے