خریدے جانے پر محمول کیا جانا ممکن ہے، اور اس کے برخلاف ایام قربانی سے پہلے یا ایام قربانی کے درمیان کی قید کے بغیر شیخ الاسلام خواہر زادہؒ اور امام طحاویؒ کے حوالہ سے نقل فرمایا ہے کہ فقیر نے جو جانور قربانی کے ارادے سے خریدا ہے اس کے خریدتے ہی فقیر کے اوپر اس کی قربانی واجب ہو جاتی ہے، لہٰذا فقیر کی طرف سے وہ جانور اضحیہ منذورہ ہو گیا اب ایام قربانی میں متعین طور پر اس جانور کی قربانی کرنا لازم ہو جائیگا۔
اب اس تفصیل کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ ایام نحر سے پہلے فقیر نے جو قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اس کی قربانی اس کے اوپر واجب ہونے میں تردد اور شک واقع ہوچکا ہے، حتمی طور پر اس کے وجوب کی بات نہیں کہی جاسکتی، اس لیے کہ حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب اور علامہ شامیؒ دونوں عظیم الشان شخصیت ہیں ، ان دونوں کی رائے اس بارے میں یہی ہے کہ ایام نحر سے پہلے فقیر کا خریدا ہوا جانور اضحیہ منذورہ نہیں ہوتا ہے اس کو بدلنا بھی جائز ہے، اور جب بدلنا جائز ہے تو اس کو بیچ کر ان پیسوں کو اپنی ضرورت میں خرچ کرنا بھی جائز ہوگا، مگر احتیاط اسی میں ہے کہ حتی الامکان فقیر اس جانور کو بدلنے یا بیچنے کا ارادہ نہ کرے البتہ کوئی مجبوری ہو تو بات الگ ہے۔
اس کے بدلنے اور اس کو بیچ کھانے کے بارے میں فقیر کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے، اب الفتاویٰ التاتارخانیۃ اور المحیط البرہانی کی عبارت ملاحظہ فرمائیے:
وإن کان المشتری فقیرا، ذکر شیخ الاسلام خواہرزادہ فی شرح کتاب الأضحیۃ إن فی ظاہر روایۃ أصحابنا تصیر واجبۃ الأضحیۃ، وروی الزعفرانی عن أصحابنا أنہا لا تصیر واجبۃ و إلی ہذا أشار شمس الأئمۃ السرخسی رحمہ اللہ فی شرحہ و ذکر شمس الأئمۃ الحلوانی فی شرحہ: أن فی ظاہر روایۃ أصحابنا لاتصیر واجبۃ الأضحیۃ وذکر الطحاوی فی مختصرہ أنہا تصیر واجبۃ وأما إذا صرح بلسانہ وقت الشراء أنہ اشتراہا لیضحی بہا فقد ذکر شمس الأئمۃ الحلوانی أنہا تصیر واجبۃ ذکرہ