الزعفرانی فی أضاحیہ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ زکریا ۱۷/۴۱۱، رقم: ۲۷۶۶۸، المحیط البرہانی، المجلس العلمی ۷/۲۵۹، رقم: ۱۰۷۸۸) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۲۴؍ ذی قعدہ ۱۴۳۵ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۴۱/۱۱۷۴۵)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ
۲۴؍ ۱۱؍ ۱۴۳۵ھ
ایام نحر میں فقیر کا خریدے ہوئے جانور کو بدلنا

سوال ]۹۹۸۸[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ ایک شخص غریب اور فقیر ہے اس نے ایامِ اضحیہ میں قربانی کی نیت سے ایک جانور خریدا ہے تو کیا اس کے لیے اس جانور کو بدلنا جائز ہے یا نہیں ؟ اسی طرح اگر وہ جانور خرید کر پچھتاتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ قربانی نہیں کروں گا اور اس جانور کو بیچ کر اس کا پیسہ اپنی ضرورت میں لگائیں گے، تو کیا ایسا کرنا اس شخص کے لیے جائز ہے؟
المستفتی: محمد یعقوب غازی آبادی
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: فقیر نے جو جانور ایام اضحیہ میں قربانی کی نیت سے خریدا ہے، اس کے لیے اس جانور کی قربانی واجب ہو گئی ہے اب اس کا بدلنا اس کے لیے جائز نہیں ہے، اسی طرح اگر خدانخواستہ وہ جانور گم ہو جائے یا ہلاک ہو جائے تو اس کی جگہ پر دوسرے جانور کی قربانی فقیر کے اوپر لازم نہیں ہے، اسی طرح اگر اس کا ارادہ بدل جائے کہ قربانی نہیں کرنی ہے بلکہ جانور کو بیچ کر پیسہ اپنی ضرورت میں استعمال کریں گے تو ایسا کرنا بھی اس کے لیے جائز نہیں ہے، اس لیے کہ قربانی کی نیت سے جانور خریدنے کے بعد اس کے لیے نذر کے درجے میں ہوگیا ،لہٰذاوہ جانور اضحیۂ منذورہ ہو گیا اس کی قربانی ہر حال میں لازم ہے، اس کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال میں لانا جائز نہیں ۔
وفی العتابیۃ: المختار أن الفقیر لو اشتراہا بنیۃ التضحیۃ فی أیام النحر