ولیمہ کے لیے لائے گئے جانور میں عقیقہ کی نیت کرنا

سوال ]۱۰۱۴۱[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : زید کے لڑکے کی شادی ہے، ولیمہ کے لیے زید نے ایک بھینس ذبح کی، زید کے دو چھوٹے بچے ہیں ، زید ایک بھینس میں اپنے دو چھوٹے لڑکوں کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے کیا ایک بھینس میں دو لڑکوں کا عقیقہ ہوسکتا ہے؟
المستفتی: عبد الرشید سیڈہا بجنور


باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایک بھینس میں دو بچوں کا عقیقہ کرنا درست ہے ایک کی طرف سے چار اور ایک کی طرف سے تین حصے کی نیت کرلی جائے اور عقیقہ کا گوشت ولیمہ میں بھی کھلانا جائز اور درست ہے۔
لو کانت البدنۃ أو البقرۃ بین إثنین فضحیا بہا اختلف المشائخ فیہ والمختار أنہ یجوز۔ (ہندیہ، الباب الثامن فیما یتعلق بالشرکۃ فی الضحایا، زکریا قدیم ۵/۳۰۵، جدید ۵/۳۵۲)
العقیقۃ بمنزلۃ النسک والضحایا۔ (تحفۃ المودود بأحکام المولود ص:۶۴ بحوالہ فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۱۷/۵۱۳)
ویطعم من شاء من غنی وفقیر۔ (مجمع الأنہر، کتاب الأضحیۃ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/۱۷۳، مصری قدیم ۲/۵۲۰، ہندیہ زکریا قدیم ۵/۳۰۰، جدید ۵/۳۴۶، حاشیۃ الطحطاوی علی الدر کوئٹہ ۴/۱۶۶) فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
۲۳؍ ربیع الثانی ۱۴۳۲ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۹/۱۰۳۶۵)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ
۲۳؍ ۴؍ ۱۴۳۲ھ