بارے میں : تعویذ کے عوض روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو کتنی مقدار لے سکتے ہیں ؟
المستفتی: وسیم اکرم بدایونی
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: تعویذ کا عوض روپیہ یا کسی دوسری اشیاء کی شکل میں لینے کی گنجائش ہے، اس کی مقدار متعین نہیں ہے مگر اس کو اپنا روزگار اور پیشہ بنالینا مناسب نہیں ہے۔
إن المتقدمین المانعین الاستئجار مطلقا جوزوا الرقیۃ بالأجرۃ ولو بالقرآن ۔ (شامی، باب الإجارۃ الفاسدۃ، مطلب: تحریر مہم فی عدم جواز الاستئجار زکریا ۹/۷۸، کراچی ۶/۵۷)
وإنما معناہ فی أخذ الأجرۃ علی الرقیۃ بالفاتحۃ أو غیرہا من القرآن فالإمام لا یمنع ہذا۔ (عمدۃ القاری، باب الشرط علی الرقیۃ بقطیع من الغنم زکریا ۱۴/۷۱۷، تحت رقم الحدیث ۵۷۳۷، دار إحیاء التراث العربی ۲۱/۲۶۴)فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۳؍ ربیع الثانی ۱۴۱۴ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۲۹/۳۳۹۸)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ
۳؍۴؍ ۱۴۱۴ھ
تعویذ گنڈے کی اجرت کا حکم


سوال ]۱۰۴۷۸[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ کیا کوئی مسلمان عاقل بالغ شخص جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کو اپنا ذریعہ معاش بنا سکتا ہے؟ بالفاظ دیگر مریضوں کو جن بھوت سے خلاصی دلوانے کا ان سے معاوضہ و اجرت لے کر اپنا اور اپنے اہل و عیال کا نان و نفقہ چلا سکتا ہے؟
المستفتی: ڈاکٹر محمد قمر کاشی پور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: تعویذ گنڈا کرکے اجرت لینا شرعاً جائز ہے، اور