الکحل اور سینٹ کا حکم


سوال ]۱۰۸۳۸[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ سینٹ میں الکحل ملا ہوا ہوتا ہے، اور الکحل فرسٹ نمبر کی شراب ہے تویہ سینٹ پاک ہے یا نہیں نیز اس کو لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے اور ادویات میں الکحل کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو الکحل انگور کی کچی شراب اور انگورکی پکی شراب اور منقی اور کھجور سے بنا یا جائے تو وہ بالا تفاق حرام اور ناپاک ہے، شرعی طور پر اس کا استعمال اور تجارت سب ممنوع ہے،اور اگر کپڑے میں گلٹ کے ایک روپیہ سے زائد لگ جائے تونماز نہ ہوگی ، اور اگر اس سے کم ہو تو کراہت کے ساتھ نماز درست ہے، انگور ، کھجور کے علاوہ دیگر اشیاء ، مثلاً آلو، لوکی، گاجر، ٹماٹر ، مولی، جامُن، وغیرہ سے بنے ہوئے الکحل کے بارے میں اختلاف ہے ، امام محمد ؒ کے نزدیک حرام ہے، اور حضرات شیخین ؒ کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے، عموماً یہی الکحل عطر یات اور ادویہ میں استعمال ہوتاہے، لہذا ضرورت شدیدہ اور عموم بلوی اور ابتلاء عام کی وجہ سے عطریات اور ادویات کے حق میں حضرات شیخین ؒ کے قول کے مطابق جواز کا فتوی ہے، اور پینے کے حق میں حضرت امام محمدؒ کے قول کے مطابق حرام اورناجائز ہونے پر فتوی ہے۔(مستفاد: ایضاح النوادر۱۲۵)
وأما غیر الأشربۃ الأربعہ فلیست نجسۃ عند الإمام أبی حنیفۃؒ وبہذا تبین حکم الکحول المسکرۃ التي عمت بہا البلوی الیوم فإنہا تستعمل فی کثیر من الأدویۃ، والعطور، والمرکبات الأخریٰ فإنہا إن تخنت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتہا أو طہارتہا، وإن اتخذت من غیرہا فالأمر فیہا