آتا رہے گا او رجب وہاں سے ہٹ جائے گا ساتھ ساتھ عکس بھی ختم ہوجائے گااور جو عکس ٹی وی اور ٹیلی ویژن کے ڈبہ میں نظر آرہا ہے، وہ وہاں سے ختم ہوجائے گا دوبارہ قطعاً نظر نہیں آئے گا؛ اس لئے جو لوگ ٹی وی اسٹیشن میں پروگرام کے وقت ٹیلی ویژن میں دکھائی دینے والی شکلوں کو تصویر کہتے ہیں ،ان کو اس بارے میں نظر ثانی کرنیکی ضرورت ہے؛ اس لئے کہ وہ تصویر ہی نہیں ہیں اور تصویر کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی؛ بلکہ عکس اور سایہ کی تعریف اس پر صادق آتی ہے، جیسا کہ ماقبل کی تفصیلات سے واضح ہوچکا ہے۔
خطیب کی تقریر کی ویڈیو کیسٹ


اگر ویڈیو اسٹیشن میں خطیب تقریر کرہا ہے یا کوئی دوسرا پروگرام چل رہا ہے، اس کو ویڈیو کیسٹ میں محفوظ کر لیاجائے،پھر اس کے بعد جب پروگرام ختم ہوجائے، تو اسی جگہ یادوسری جگہ ویڈیو کیسٹ میں محفوظ شدہ پروگرام بعد میں دکھایاجائے، تواس کا کیا حکم ہے؟ جبکہ پورے پروگرام کی فلم اور ریکارڈنگ بن چکی ہے،جب چاہے وہ پروگرام دوبارہ دکھا یا جاسکتا ہے، تو ایسی صورت میں ویڈیو کیسٹ میں محفوظ کیاہوا پروگرام جوبظاہر علی صفۃالدوام اوراستقرار ہے، ان کو تصویر کے دائرے میں تسلیم کیا جائے یا نہیں ؟ تو غور طلب بات یہ ہے کہ ویڈیو کیسٹ میں پروگرام کے وقت ریلوں کے ذریعہ سے جو ذرات اسی ترتیب کیساتھ چھوڑ دیئے گئے ہیں ، جس ترتیب سے ویڈیو اسٹیشن میں پروگرام ہوا تھا، پھر جب چاہے اسی کا ایک منظر اور وہاں کی تصویریں اور شکلیں ٹی وی کے ذریعہ سے دیکھی جاسکتی ہیں ، تو اب یہاں اس کی ٹکنالوجی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ تصویر کوعلی سبیل الدوام اور استقرار کے ساتھ ساتھ انسان دیکھ سکتا ہو، جب چاہے تصویر کے آلات کے ذریعہ سے اس کا فوٹو لیاجاسکتا ہو، اسے تصویر کہاجاتا ہے؛ لیکن یہاں ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ سے پروگرام کے جو ذرات محفوظ کر لئے گئے ہیں ، ان کوخورد بین سے بھی دیکھا نہیں جاسکتا چہ جائے کہ