واضح رہے کہ جو رقم ہبہ، صدقہ یا وقف کے لیے الگ نکال کر رکھدی جاتی ہے وہ جب تک اپنے مصرف میں خرچ نہ ہو جائے اس وقت تک مالک کی ملکیت سے خارج نہیں ہوتی، اور مرنے کے بعد اس کے ترکہ میں شمار ہوتی ہے، لہٰذا حسب تحریر سوال جبکہ میت کی زندگی میں مذکورہ رقم جوں کی توں موجود رہی اور صدقہ کی نیت کے باوجود انتقال کے وقت تک صدقہ کے محل تک نہیں پہنچی تو محض نیت کرلینے سے وہ آپ کے شوہر کی ملکیت سے خارج نہیں ہوئی، بلکہ انتقال ہوتے ہی اس رقم سے میت کے سبھی وارثین کا حق متعلق ہو چکا ہے۔
وإذا قال عبدی ہذا لفلان و داری ہذہ لفلان ولم یقل وصیۃ و لا کان فی ذکر وصیۃ ولا قال بعد موتی کان ہبۃ قیاسا و استحسانا فإن قبضہا فی حال حیاتہ صح وإن لم یقبضہا حتی مات فہو باطل۔ (عالمگیری، کتاب الوصایا، الباب الثانی زکریا قدیم ۶/۹۴، جدید ۶/۱۱۱)
ب: اور اگر آپ کا بڑا لڑکا اس پوری رقم کے راہِ خدا میں صرف کرنے کی ہدایت پر دو شرعی گواہ یا پختہ ثبوت پیش کردے پھر بھی اس کا نفاذ صرف ایک تہائی رقم میں ہو سکتا ہے، باقی دو تہائی رقم بہر حال وارثین میں تقسیم کرنی لازم ہے، آپ کے بڑے لڑکے پر فرض ہے کہ وہ جلد از جلد اس رقم کو مستحقین تک پہنچاکر اپنا ذمہ فارغ کرے، ورنہ وہ مرتکب خیانت ہو کر وصی اور وکیل ہونے کی ذمہ داری سے معزولی کا مستحق ہوگا۔
لاینبغی لہ أن یعزلہ حتی یبدو لہ منہ خیانۃ فإن علم منہ خیانۃ عزلہ۔ (عالمگیری، الباب التاسع فی الوصی ومایملکہ، زکریا قدیم ۶/۱۳۹، جدید ۶/۱۵۹) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۲۵؍ ربیع الثانی ۱۴۱۹ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۳/۵۷۳۴)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ
۲۵؍ ۴؍ ۱۴۱۹ھ
مرض الموت میں ہبہ کرنے کا حکم


سوال ]۱۱۲۸۳[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے