نہیں ملے گا، اگر باپ کا کچھ بھی ترکہ ہے تو صبور علی کو اپنے باپ کی شرعی میراث ملے گی، مگر روبینہ کو کوئی چیز نہیں ملے گی، نیز دادا کے اوپر اپنے پوتے کی پرورش کا خرچہ لازم ہوتا ہے، بشرطیکہ دادا کی پرورش میں رہے اور دادا اپنی مرضی سے پوتے کے نام کچھ جائیداد کرنا چاہے تو پوتے کو مل سکتی ہے، ورنہ پوتے کو دوسری اولاد کی موجودگی میں کچھ نہیں ملے گا، نیز ابھی دادا خود زندہ ہے، اس لیے اس کی جائیداد میں سے کسی کو مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے۔
وأجمعوا أنہ لو طلقہا فی الصحۃ فی کل طہر واحدۃ ثم مات أحدہما لایرثہ الآخر۔ (فتح القدیر، باب طلاق المریض، زکریا ۴/۱۲۹، کوئٹہ ۴/۲، دار الفکر ۴/۱۴۵)
قولہ طلقہا رجعیا أو بائنا فی مرض موتہ ومات فی عدتہا ورثت وبعدہا لا … لأن النکاح فی العدۃ یبقی فی حق بعض الآثار فجاز أن یبقی فی حق إرثہا عنہ بخلاف ما بعد الانقضاء لأنہ لا إمکان، والزوجیۃ فی ہذہ الحالۃ لیست بسبب لإرثہ عنہا، فیبطل فی حقہ خصوصا إذا رضی بہ۔ (البحر الرائق، باب طلاق المریض، زکریا ۴/۷۰، کوئٹہ ۴/۴۲، البنایہ اشرفیہ دیوبند ۵/۴۴۱) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۲؍ ذی قعدہ ۱۴۳۵ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۴۱/۱۱۶۷۶)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفرلہ
۱۲؍۱۱؍ ۱۴۳۵ھ
عدت مکمل ہونے کے بعد مطلقہ کا سابق شوہر اس کا وارث نہیں


سوال ]۱۱۴۶۶[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : زید کی دو بیویاں تھیں ، پہلی بیوی کو طلاق دیدی، بعد طلاق زید نے دین مہر دینا چاہا مگر اس نے مہر لینے سے انکار کردیا کہ قیامت میں لوں گی، زید نے مطلقہ کو مہر دینے کی بارہا کوشش کی مگر ہر بار وہ مہر لینے سے انکارہی کرتی رہی اور معاف بھی نہیں کیا، حتی کہ بیوی کا انتقال ہوگیا، لہٰذا بتایا جائے کہ اس کی مہر کی ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟
آپ نے تحفۂ خواتین ماہ ربیع الاول ۱۴۲۵ھ دینی مسائل اور ان کا حل کے جواب