مسئلہ تکفیر اور غامدی فکر و سوچ !
مسئلہ تکفیر اور غامدی فکر و سوچ

الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
دین اور اہل ِ دین سے دوری کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ نفس اور شیطان انسان پر حاوی ہوکر اسے خواہش پرست اور آزادی پسند بنادیتے ہیں۔ ایسا انسان جس چیز کو اپنی غرض، خواہش اور مشن کے لئے سد ِ راہ اور رکاوٹ خیال کرتا ہے، غلط تاویلات اور فاسد خیالات کے ذریعہ اس کا انکار کردیتا ہے۔
جن لوگوں نے اپنے عزائم اور فاسد نظریات کی ترویج میں احادیث کو رکاوٹ گردانا ، انہوں نے حجیت حدیث کا انکارکیا، جن لوگوں نے صحابہ کرام کے طرز عمل اور اسوہ کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے آڑ سمجھا، انہوں نے اجماع صحابہ اور اجماع امت سے منہ پھیرلیا۔ جنہوں نے فقہائے کرام کی تحقیقات وتدقیقات اور استنباط کو اپنی نفس پرستی اور خواہش پرستی کے سامنے دیوار سمجھا، انہوں نے فقہائے کرام کی تقلید کاسرے سے انکار کردیا۔
ٹی وی پروگراموں سے شہرت پانے والے جاوید احمد غامدی جو دین و شریعت کے ہر مسئلہ کو اپنی عقل کی میزان پر تولتے ہیں اور ان کی عقل رسا میں جو مسئلہ فٹ نہیں بیٹھتا تو اس کا انکار کرنا اپنا فرض منصبی اور ضروری حق گردانتے ہیں۔ موصوف کی کج راہیوں کی ایک طویل فہرست ہے، مختصر یہ کہ مسلمات امت کے باغی، ہم جنس پرستی کے مجوز، حد رجم کے قائل نہیں، سزائے ارتداد کے منکر، اجماع امت اور حدیث سے نالاں اور خفا ہیں۔
حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید کا ارادہ تھا کہ دورِ حاضر میں امت مسلمہ کے دین و ایمان پر ڈاکا ڈالنے والے فتنہ پروروں اور الحاد و زندقہ میں مبتلا کرنے والے فتنوں پر لکھا جائے، تاکہ امت محمدیہ ان سے باخبر ہوکر اپنی متاع ایمان کی حفاظت کرسکے اور ساتھ ساتھ انہیں ان نظریات کے جواب میں علمی مواد بھی میسر ہوسکے۔ آپ نے چند فتنوں کا ایک اجمالی خاکہ بنا لیا تھا، مثلاً:
۱:...انکار حیات و انکار نزول عیسیٰ کا فتنہ، ۲:...انکار حدیث، ۳:...تجدد پسندی کا فتنہ، ۴:...اسلاف بیزاری، ۵:...دین دار انجمن کا فتنہ، ۶:...گوہر شاہی کا فتنہ، ۷:...مہدویت کا فتنہ، ۸:...محمد شیخ کا فتنہ،۹:...زید زمان کا فتنہ، ۱۰:...الہدیٰ کا فتنہ، ۱۱:...ذکری فتنہ، ۱۲:...بہائی فتنہ، ۱۳:...جاوید احمد غامدی کا فتنہ، ۱۴:... انٹرنیٹ کا فتنہ، ۱۵:... موبائل فون میسج کا فتنہ۔
ان فتنوں کے خلاف لکھنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے شائع کردہ کتاب: ”اسلام اور انتہا پسندی“ ایک تجزیاتی مطالعہ، برائے تبصرہ آپ تک پہنچی، آپ نے اس کا مطالعہ کیا اوراس کتاب کے ایک اقتباس: ”مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں۔“ پر بحث شروع کی تھی اور اس پر چند صفحات لکھ لئے تھے کہ آپ شہید کردیئے گئے۔ مضمون کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اسے قارئین بینات کے لئے پیش کیا جارہا ہے:
”اسلامی نظریاتی کونسل، پاکستان، ایک بڑا نام ہے، اس کا تذکرہ آتے ہی دل و دماغ میں ایک عظمت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ یقینا اس کے قیام کا مقصد پاکستان کے آئینی ڈھانچے کو اسلامی نظریات کے سانچے میں ڈھالنا شامل ہوگا۔ چنانچہ ابتدائی کچھ عرصہ کو چھوڑ کر اس ادارہ نے واقعی پاکستان میں رائج قانون کی غیر اسلامی دفعات کو مشرف بااسلام کرنے کی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں، اس ادارہ کی قابل قدر خدمات میں اس ادارہ کے معزز ارکان کی مساعی اور اس میں پاکستان بھر کے چوٹی کے علماء اور ارباب علم و فضل کی شمولیت اور ان کی علمی و تحقیقی خدمات کا بڑا دخل ہے۔
چنانچہ ایک دور میں اس ادارہ کو یہ شرف و اعزاز حاصل رہا ہے کہ محدث العصر حضرت اقدس مولانا سیّد محمد یوسف بنوری قدس سرہ جیسی نابغہ روزگار شخصیت اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی زید مجدہ جیسے بے دار مغز، عالم دین، اس کے رکن رہے ہیں، جب اتنے بڑے بڑے زعمائے اسلام اس کے ارکان ہوں گے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں رائج قوانین کی غیر اسلامی دفعات کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ہوگا؟ مگر افسوس! کہ بیوروکریسی نے اسلامی نظریاتی کونسل کے ان مخلص ارکان کی ایسی تمام سفارشات کو نہ صرف نافذ نہیں ہونے دیا، بلکہ ان کو منصہ شہود پر ہی نہیں آنے دیا۔ بہرحال وہ حضرات اپنے اپنے حصہ کا کام کرکے کچھ اللہ کے حضور پہنچ گئے تو کچھ مجبوراً اس سے الگ ہوگئے یا کردیئے گئے۔
اب یہ ادارہ جن بزرچ مہروں کے تصرف اور قبضہ میں ہے، ان میں سے ڈاکٹر محمد خالد مسعود ...چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل (جو اب ریٹائر ہوگئے ہیں) ...اور جناب جاوید احمد غامدی جیسے ”روشن دماغ اسکالر“ قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر محمد خالد مسعود صاحب کے عقائد و نظریات اور ان کے دل و دماغ میں پروان چڑھنے والے جدت پسندی کے افکار و نظریات کا تذکرہ سال رفتہ، انہیں صفحات میں تفصیل سے آچکا ہے، آج کی نشست میں اس ادارہ کے ایک ”نامور“ رکن جناب جاوید احمد غامدی کے قرآن، و سنت، اجماع امت اور چودہ سو سالہ تعامل کے خلاف انوکھے اور جدید نظریات پر کچھ لکھنے کو جی چاہتا ہے، بلاشبہ اس وقت جناب جاوید احمد غامدی سرکاری سرپرستی، اسلامی نظریاتی کونسل کی بیساکھیوں اور ٹی وی مذاکروں اور پروگراموں کی ”برکت“ سے شہرت کی بلندیوں پر ہیں۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ میرے جیسے کم علم ”کٹھ ملا“ ”تنگ نظر“ ”شدت پسند“ ”تاریک خیال“ اور ”انتہا پسند“ کی بات کا، غامدی صاحب جیسے: ”تجدد پسند“ ”کھلے دماغ“ اور ”مجتہدانہ صلاحیتوں کے مالک“ ”حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرا ر دینے کے منصب پر فائز“ ”جدید دین و شریعت کے موجد“ ...دورِ حاضر کے تقاضوں سے میل نہ کھانے والے، دین سے آزادی دلانے اور اس کی دورِ حاضر کے تقاضوں سے میل کھاتی جدید تعبیر و تشریح کرنے والے روشن دماغ اسکالر، کے مقابلہ میں، کوئی وزن نہ ہو، یا اس کو سننے، سمجھنے یا اس پر غوروفکر کے لئے کوئی تیار نہ ہو، تاہم ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے احقاق حق کریں اور قرآن و سنت اور دین و شریعت کی روشنی میں جو بات صحیح ہو، اس کو صحیح اور جو غلط ہو، اس کو غلط کہیں اور لکھیں۔
ہمیں احساس ہے کہ دورِ حاضر کے ”مجتہدین“ و ”محققین“ اور ان کا حلقہ ہماری اس سعی و کوشش کو دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں دے گا، لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ سادہ لوح مسلمان، جو دین کے نام پر ایسے لوگوں کی طلاقت لسانی، چرب زبانی اور الٹے سیدھے فلسفے سے متاثر ہوکر، دین و شریعت کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہورہے ہیں، ان کے سامنے جب تصویر کا دوسرا رخ آئے گا تو کم از کم وہ اس پر غور و فکر کئے بغیر بھی نہیں رہیں گے۔
ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ غلط فہمی کے شکار ایسے مخلصین کے سامنے جب یہ حقیقت کھلے گی کہ غامدی صاحب دین، شریعت، مذہب اور ملت کے خلاف اسی فکر و فلسفہ کے علمبردار ہیں، جس کے داعی مرزا غلام احمد قادیانی اور چوہدری غلام احمد پرویز تھے اور یہ صاحب در حقیقت ان کی فکر و فلسفہ کو تحفظ دینے اور اس کو پروان چڑھانے کے لئے میدان میں اترے ہیں اور ان کے پیچھے بھی وہی قوتیں ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی، چوہدری غلام احمد پرویز اور ڈاکٹر فضل الرحمن کے پیچھے تھیں، تو یقینا وہ اس کی اقتداء سے نہ صرف باز آجائیں گے بلکہ ممکنہ حد تک دوسروں کو بھی اس فتنہ سے بچانے کی سعی و کوشش کریں گے۔
اسی طرح ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں اور نہ ہی گمراہی سے بچاسکتے ہیں، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ایمان کو اسباب کے ساتھ جوڑا ہے، اس لئے ہم ان اسباب کو اپنانے اور اختیار کرنے کے مکلف ہیں اور یہ کہ قیامت کے دن ہم سے صرف اور صرف یہی پوچھا جائے گا کہ فلاں دور میں فلاں، فلاں لوگوں نے امت کو گمراہ کرنے کی سازشیں کی تھیں تو آپ لوگوں نے ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کے دین و ایمان کو بچانے کے لئے کہاں تک اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا تھا؟ یا اس کے سدباب کے لئے کیا کیا تھا؟
بس یہ غرض اور جذبہ ہے، جس کی بنا پر ہم درج ذیل سطور لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں، اے اللہ! میں جو کچھ لکھوں، اخلاص سے لکھوں اور محض آپ کی رضا اور امت مسلمہ کے دین و ایمان کے تحفظ کی غرض سے لکھوں، اس میں میرے نفس کی خواہش اور ذاتی پسند و ناپسند کا کوئی دخل نہ ہو، اے اللہ! اس تحریر کو بھولے بھالے اور سیدھے سادے مسلمانوں کے دین و ایمان بچانے کا ذریعہ بنا اور اگر جناب جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے متبعین کے مقدر میں ہدایت ہو تو اس تحریر کو ان کی ہدایت کا ذریعہ بنا اور مجھے ان کے حق کی طرف پلٹ آنے کا اجر عطا فرما۔ آمین۔
جناب جاوید احمد غامدی صاحب کون ہیں؟ ان کا علمی پس منظر کیا ہے؟ انہوں نے کہاں پڑھا؟ کیا پڑھا؟ ان کے پاس دینی و عصری علوم کی کوئی سند یا ڈگری ہے یا نہیں؟ وہ کس کے تربیت یافتہ ہیں؟ وہ کن کے علوم و افکار سے متاثر ہیں؟ ان کے اساتذہ مسلمان تھے یا کافر؟ وہ ایک دم کہاں سے نمودار ہوئے؟ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کیسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے؟ ان کو ٹی وی پر کون لایا؟ وہ اسلامی نظریاتی کونسل میں کیسے داخل ہوئے؟ وہ پرویز مشرف کے قریب کیسے ہوگئے؟ وہ حکومت کی ناک کا بال کیسے بنے؟ انہیں اپنی فکر و فلسفہ کے پروان چڑھانے میں کن لوگوں نے مالی تعاون کیا؟ ان کے لئے فنڈنگ کون کرتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
ان تمام سوالوں کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات، قرآن و سنت، اجماع امت اور دین و مذہب کو بگاڑنے، اکابر و اسلافِ امت کے خلاف بغاوت کرنے اور ان کے خلاف زبان درازی کرنے کی ہمت رکھتے ہوں، وہ دنیا بھر کی اسلام دشمن قوتوں اور مذہب بیزار لابیوں کے منظور نظر بن جاتے ہیں، اور ان کے تمام عیوب ونقائص نہ صرف چھپ جاتے ہیں بلکہ اعدائے اسلام ان کی سرپرستی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو اپنا فرض اور اعزاز سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت و سرپرستی کے لئے اپنے اسباب، وسائل، مال و دولت اور خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ نظری، بصری میڈیا کے ذریعے ان کا ایسا تعارف کرایا جاتا ہے کہ دنیا ان کے ”قدوقامت“ اور نام نہاد علمی شوکت و صولت کے سامنے ڈھیر ہوجاتی ہے۔
جس طرح آج سے ایک صدی پیشتر ضلع گورداس پور کی بستی قادیان کے میٹرک فیل اور مخبوط الحواس انسان غلام احمد قادیانی کو استعمار نے اٹھایا، اس کی سرپرستی کی اور اس سے دعویٰ نبوت کرایا، ٹھیک اسی طرح دورِ حاضر کے نام نہاد اسکالر جاوید احمد غامدی کا قضیہ ہے، جس طرح غلام احمد قادیانی کا کوئی پس منظر نہیں تھا اور اس میں اس کے سوا کوئی کمال نہیں تھا کہ اس نے مسلمانوں کے قرآن کے مقابلہ میں نیا قرآن، مسلمانوں کے دین کے مقابلہ میں نیا دین اور مسلمانوں کے نبی کے مقابلہ میں نئی نبوت کا اعلان کیا، جہاد جیسے دائمی فریضہ کو حرام قرار دیا اور حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ کا انکار کیا، ٹھیک اسی طرح جناب جاوید احمد غامدی صاحب بھی دین اسلام کے مقابلہ میں نئے ترمیم شدہ دین اور مذہب کی ایجاد کی کوشش میں ہیں اور انہوں نے بھی اپنے پیش روؤں کی طرح منصوص دینی مسلمات کے انکار پر کمر ہمت باندھ لی ہے ...جیسا کہ آگے آئے گا... بس یہی ان کی مقبولیت ، کامیابی اور شہرت کا سبب ہے، چونکہ جاوید احمد غامدی صاحب کا دینی اور مذہبی علم کسی باقاعدہ مسلمہ دینی درس گاہ کا مرہون منت نہیں، بلکہ ان کا علم جنگلی گھاس کی طرح خود رو ہے، اور ان کی عقل و فہم کسی مسلمہ ضابطہ کی پابند نہیں ہے، اس لئے دین و مذہب کے بارہ میں ان کا علم و فہم ناقابل اعتماد ہے، اس سب سے ہٹ کر وہ مشہور منکر حدیث جناب امین احسن اصلاحی صاحب کو اپنا امام کہتے اور مانتے ہیں، کیونکہ رجم کے حد شرعی ہونے کا شد و مد سے انکار دراصل امین احسن اصلاحی کا کارنامہ ہے، جس کے جواب میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید نے ”رجم شرعی حد ہے“ کے نام سے خالص علمی اور تحقیقی کتاب لکھ کر جناب امین احسن اصلاحی صاحب کے قرآن و سنت سے متصادم افکار و نظریات کے تارپود بکھیرے تھے۔
یوں تو ...جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے ... جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے بے شمار منصوص اور قطعی عقائد اور اسلامی نظریات کے بارہ میں قرآن، سنت، اجماع امت اور امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تعامل کے خلاف الگ راہ اختیار کی ہے، تاہم ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: وہ سزائے ارتداد کے منکر ہیں، وہ رجم کے حد شرعی ہونے سے انکاری ہیں، وہ مرد اور عورت کی دیت میں فرق کے قائل نہیں، وہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ کے منکر ہیں، وہ فرد کی حد تک جہاد کے منکر ہیں، وہ افراد امت کو نہی عن المنکر کا مامور نہیں مانتے، وہ اجماع امت کو پرکاہ کا درجہ نہیں دیتے، وہ سنت کے قائل نہیں وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ ان کے انہی غیر اسلامی عقائد کے خلاف متعدد اہل علم نے اپنے اپنے انداز میں بہت کچھ لکھا ہے۔
بحمداللہ راقم الحروف نے بھی کچھ عرصہ قبل ان کے سزائے ارتداد سے بغاوت کے نظریہ پر ”مرتد کی سزا، قرآن، سنت، اجماع امت، اور عقل کی روشنی میں “ کے نام سے ایک تفصیلی مقالا لکھا تھا جو پہلے ماہنامہ بینات کراچی، ماہنامہ لولاک ملتان، اور ہفت روزہ ختم نبوت کراچی وغیرہ میں شائع ہوا تھا اور اب کچھ عرصہ سے کتابی صورت میں شائع ہو کر تقسیم ہو رہا ہے۔
بلاشبہ موصوف کے ان نظریات میں سے ہر ایک پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے، خدا کرے کوئی اللہ کا بندہ اس طرف توجہ کرے اور مسلمانوں کو ان کی تزویر و گمراہی سے بچائے۔ آمین۔ یہاں اس کا تذکرہ کردینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کے عقائد و نظریات پر ہمارے مخدوم جناب مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب جامعہ مدنیہ لاہور نے اچھا کام کیا ہے، ایسے ہی جناب پروفیسر محمد رفیق صاحب لاہور نے ”غامدی مذہب“ کے نام سے قابل قدر کتاب لکھی ہے ، اسی طرح مولانا عبدالرحیم چاریاری صاحب نے بھی غامدی صاحب کے خلاف ”غامدیت کیا ہے؟“ کے عنوان سے اچھا مواد جمع کیا ہے۔
سردست راقم کی اس تحریر کا باعث غامدی صاحب کا وہ مضمون ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کی جانب سے شائع ہونے والی کتاب: ”اسلام اور انتہا پسندی، ایک تجزیاتی مطالعہ“ میں شامل اشاعت ہے اور اس کا عنوان ہے: ”اصول و مبادی، جہاد، تکفیر اور نہی عن المنکر“ جس میں انہوں نے خیر سے جہاد، تکفیر اور نہی عن المنکر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جہاد اور نہی عن المنکر حکومت کا کام ہے، لہٰذا افرادِ امت اس کے مکلف ہی نہیں ہیں۔ لیجئے! ان کے علمی شاہکار اور انوکھی تحقیقات پڑھئے اور سر دھنئے۔ چنانچہ مسئلہ تکفیر پر موصوف لکھتے ہیں:
”مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک کی حقیقت تو بے شک، اس پر واضح کی جائے گی، اسے قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیا جائے گا، اہل حق اس کی شناعت سے اسے آگاہ بھی کریں گے اور اس کے دنیوی اور اخروی نتائج سے اسے خبردار بھی کیا جائے گا، لیکن اس کی تکفیر کے لئے چونکہ اتمام حجت ضروری ہے، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد یا جماعت کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے۔
تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ داعی حق کے لئے کفر و شرک کے ابطال میں مداہنت کے لئے بھی کوئی گنجائش ہے، احقاق حق اور ابطال باطل اس کی ذمہ داری ہے، اس کا اصلی کام یہی ہے کہ ہر خطرے اور ہر مصلحت سے بے پرواہ ہوکر توحید و رسالت اور معاد کے متعلق تمام غلط تصورات کی نفی کرے اور لوگوں کوا س صراطِ مستقیم کی طرف بلائے جو اللہ، پروردگار عالم نے اپنی کتاب میں انسانوں کے لئے واضح کی ہے، یہ اس پر لازم ہے، لیکن اس کے کسی مرحلہ میں بھی یہ حق اس کو حاصل نہیں ہوتا کہ امت میں شامل کسی فرد یا جماعت کو کافر و مشرک قرار دے اور ان کے جمعہ و جماعت سے الگ ہوکر اور ان سے معاشرتی روابط منقطع کرکے اپنی ایک الگ امت اس امت مسلمہ میں کھڑی کرنے کی کوشش کرے۔“ (اسلام اور انتہا پسندی، ص:۲۱)
ایسا لگتا ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب جیسے ”محقق“ اور ”مجتہد“ کو ”کافر بنانے“ اور ”کافر بتانے“ جیسے عام فہم الفاظ کے معنی و مفہوم کی پہچان تک نہیں ہے، جب ہی تو وہ یہ فرماتے ہیں کہ : ”...کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفر و شرک کی حقیقت تو بے شک اس پر واضح کی جائے گی...“ کیا اس کا یہ معنی نہیں کہ موصوف کفر و شرک کے مرتکب کو کافر و مشرک کہنے، یا اسے کافر و مشرک بتانے، باور کرانے اور اس کے اظہار و بیان پر پابندی لگانا چاہتے ہیں، اگر ایسا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس عبارت میں خود انہوں نے :”مرتکب کفر و شرک“ کے الفاظ کیوں استعمال فرمائے ہیں؟ اچھا، اگر ایسے شخص کو کافر و مشرک کہنا منع ہے تو خود انہوں نے ایسے شخص کے لئے … سوال یہ ہے کہ اس کفر و شرک کے مرتکب کو کافر و مشرک کہنا کیونکر ممنوع ہے؟ غالباً ان کے خیال میں کسی کو از خود کافر بنانے کو تکفیر کہتے ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ کوئی داعی کسی مسلمان کو از خود کافر نہیں بناتا، بلکہ اس کے کافرانہ اور مشرکانہ عقائد کو کفر و شرک بتاتا ہے، دوسرے الفاظ میں وہ اس کے کفر و شرک کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس لئے کہ ایک مسلمان داعی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے کافرانہ اور مشرکانہ عقائد کے مرتکب افراد کو بتلائے کہ تمہارے فلاں فلاں عقائد و نظریات کفریہ اور شرکیہ ہیں اور جو شخص ان عقائد و نظریات کو اپناتا ہے وہ دائرہ اسلام سے نکل کر کفر و شرک کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے اور جو شخص دائرہ اسلام سے نکل کر دائرہ کفر میں داخل ہوجاتاہے، اس کے احکام بدل جاتے ہیں، مثلاً اس کا کسی مسلمان سے نکاح نہیں ہوسکتا، اگر پہلے سے کسی مسلمان سے اس کا نکاح تھا تو اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا، اگر ایسا انسان مر جائے تو اس کا جنازہ نہیں ہے، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا، اور وہ کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا، اور وہ مسلمانوں کی نماز کی امامت نہیں کرسکتا، اور اس کا مسلمان معاشرہ اور مسلم برادری میں شمار نہیں ہوسکتا وغیرہ، وغیرہ۔ بتلایا جائے کہ کسی داعی کو اس کا حق کیوں نہیں دیا جاسکتا؟ اور جب کسی ایسے بد عقیدہ کے بارہ میں داعی سے استفسار کیا جائے تو وہ کن دلائل کی بنا پر ا س کو مسلم برادری میں شامل کرے گا؟ موصوف کی تحریر کو بار بار پڑھنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
الف:... قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق نہیں ہے۔
ب:...اگر کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، مگر وہ اپنے ان کفریہ و شرکیہ عقائد کو کفر و شرک نہ سمجھے تو اس کو کافر و مشرک کہنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔
ج:... اگر کوئی شخص کفر و شرک کا ارتکاب کرنے کے بعد اپنے ان معتقدات کو کفر و شرک کہے اور سمجھے تو اس کو کافر و مشرک کہا جائے گا۔
د:...ایسا شخص جو کفریہ و شرکیہ عقائد و اعمال کا ارتکاب کرے، اگرچہ اس کو کافر و مشرک نہیں کہا جائے گا، مگر اس کے سامنے کفریہ و شرکیہ عقائد و اعمال کی حقیقت اور اس کی قباحت و شناعت بے شک بیان کی جائے گی۔
ہ:... تکفیر کے لئے چونکہ اتمام حجت کی ضرورت ہوتی ہے اور اتمام حجت صرف اللہ کا نبی و رسول کرسکتا ہے، لہٰذا اللہ کے رسول کے بعد قیامت تک اب کسی فرد یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔
و:...بایں ہمہ داعی حق کو کفر و شرک کے ابطال کے سلسلہ میں مداہنت اختیار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
ز:...داعی حق کو کسی مرحلہ میں یہ حق حاصل نہیں کہ امت میں شامل کسی فرد یا جماعت کو کافر و مشرک قرار دے، اور ان کے جمعہ و جماعت سے الگ ہوکر اور ان سے معاشرتی روابط منقطع کرکے اپنی الگ امت اس امت مسلمہ میں کھڑی کرنے کی کوشش کرے۔
اگر ہم نے غامدی صاحب کی اس ”مجتہدانہ تحقیق“ کا صحیح مطلب سمجھا ہے، اور یقینا صحیح سمجھا ہے، بلکہ کوئی معمولی اردو خواں بھی اس سے اختلاف نہیں کرے گا کہ ہم نے موصوف کی اس عبارت سے جو نتائج اخذ کئے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد ہم جناب غامدی صاحب سے پوچھنا چاہیں گے کہ:
۱:...وہ اپنے اس دعویٰ پر کہ: ”قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق نہیں ہے“ قرآن و سنت کی کوئی ایسی صریح نص پیش فرماسکتے ہیں، جن میں واضح طور پر فرمادیا گیا ہو کہ اسلام سے پھر کر مرتد ہونے اور کفر و شرک اختیار کرنے والے کی تکفیر نہ کی جائے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ موصوف کفر و اسلام کی سرحدوں کو مٹانے اور مسلم و کافر کے فرق کو مٹانے کی ناپاک تحریک کے علم بردار ہیں۔
۲:...موصوف کا دوسرا دعویٰ ہے کہ : ”اگر کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، مگر وہ اپنے ان کو کفریہ اور شرکیہ عقائد کو کفر و شرک نہ سمجھے تو اس کو کافر و مشرک کہنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔“
اس پر بھی ہم جناب غامدی صاحب سے عرض کریں گے کہ قرآن و سنت میں ایسی کوئی تصریح موجود ہے کہ کسی مرتکب کفر و شرک کو کافر و مشرک نہ کہا جائے۔کسی ملک کا شہری اگر ملکی قوانین سے بغاوت کی بنا پر باغی کہلاسکتا ہے اور اس کو بغاوت کی سزا دی جاسکتی ہے تو بتلایا جائے کہ جو مسلمان اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور پوری امت کے تعامل سے بغاوت کرے تو اس کو کیوں اللہ اور رسول اور امت مسلمہ کا باغی نہیں کہا جاسکتا؟ اور اللہ و رسول کے ایسے باغی کو بغاوت کی سزا کیوں نہیں دی جاسکتی؟
غامدی صاحب انصاف سے بتلایئے کہ آپ کسی ملک کے باغی کے بارہ میں بھی ارباب اقتدار کو مشورہ دیں گے کہ جو شخص ملکی قوانین کا باغی ہو، آپ اس کو بے شک یہ تو بتلائیں کہ تم نے بغاوت کی ہے اور تم نے بُرا کیا ہے، مگر اس کے باوجود نہ تو اس کو باغی کہا جائے گا اور نہ ہی اس کو اس بغاوت کی سزا دی جائے گی، اور نہ ہی اس سے معاشرتی رابطہ منقطع کرکے اپنی الگ جماعت بناکر اپنے ملک کے اندر ایک دوسری جماعت کھڑی کرنے کی کوشش کی جائے گی؟۔“
(یہاں تک حضرت شہید کی پر مغز و مدلل تحریر تھی، آگے اس ہیچمداں کی پیوند کاری ہے)
کوئی غامدی صاحب سے پوچھے کہ حضور! آپ تو مسلمان داعی کو اس کا پابند فرماتے ہیں کہ کفر و شرک کے ایسے مرتکب جو اپنے کفر و شرک کو کفر و شرک نہ سمجھے، اس سے معاشرتی روابط منقطع نہ کیے جائیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کے برعکس یہ فرماتے ہیں کہ:
۱:...”وقد نزل علیکم فی الکتاب ان اذا سمعتم آیت اللّٰہ یکفر بہا ویستہزأ بہا فلا تقعدوا معہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذاً مثلہم ۔“ (النساء:۱۴)
ترجمہ: ...”اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس یہ فرمان بھیج چکا ہے کہ جب احکامِ الٰہیہ کے ساتھ استہزأ اور کفر ہوتا ہوا سنو تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو جب تک کہ وہ کوئی اور بات شروع نہ کردیں کہ اس حالت میں تم بھی ان ہی جیسے ہوجاؤگے۔“
۲:... ”واذا رائیت الذین یخوضون فی آیاتنا فاعرض عنہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ، واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظالمین۔“ (الانعام: ۶۸)
ترجمہ: ...”اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجا، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر تجھ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔“
۳:...”لا تجدقوما یوٴمنون باللّٰہ والیوم الآخر یوادون من حاد اللّٰہ ورسولہ ولو کانوا آبائہم او ابنائہم او اخوانہم او عشیرتہم۔“ (المجادلة:۲۲)
ترجمہ...” جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں ،گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہو...۔ “
۴:...”یا ایہاالذین آمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودة وقد کفروا بما جاء کم من الحق...“ (الممتحنة:۱)
ترجمہ: ...”اے ایمان والو! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو، حالانکہ تمہارے پاس جو دین حق آچکا ہے وہ اس کے منکر ہیں۔“
سوال یہ ہے کہ آنجناب کا ان ارشاداتِ الٰہی کے بارہ میں کیا فتویٰ ہوگا؟
۲:... اگر ایک داعی کو دائرہ اسلام سے خارج ہونے والوں سے معاشرتی بائیکاٹ کی اجازت نہیں تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قربِ قیامت میں ظاہر ہونے والے فتنہ پروروں کے بارہ میں حضرت حذیفہ  سے یہ کیوں فرمایا تھا کہ:
”تلزم جماعت المسلمین وامامہم، قلت: فان لم یکن لہم جماعة ولاامام، قال: فاعتزل تلک الفرق کلہا ولو ان تعض باصل شجرة حتی یدرکک الموت وانت علی ذلک، متفق علیہ...“ (مشکوٰة، ص:۵۶۲)
ترجمہ: ...”(ایسی صورت میں) مسلمانوں کے امام اور ان کی جماعت کو لازم پکڑو، حضرت حذیفہ نے عرض کیا: اگر اس وقت مسلمانوں کی کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو؟ فرمایا: بس ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اگر کرسکتے ہو تو کسی درخت کی جڑ میں جاکر بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔“
کہیں ایسا تو نہیں کہ جناب غامدی صاحب قادیانیوں جیسے منکرین ختم نبوت ،سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے باغیانِ رسول اور ملعونوں کو مسلمان باور کرانااور دکھانا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو جو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے، یہ فیصلہ دینا پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا تھا، اگر وہ یہی کہنا چاہتے ہیں تو یہ بات موصوف کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہ فیصلہ صرف پاکستانی پارلیمنٹ کا نہیں ،بلکہ اگر انہیں قرآن و سنت سے کوئی علاقہ و تعلق ہے تو ان کو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور دو سو سے زائد احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر و غیر مسلم ہے، اس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔
اب اگر کوئی شخص قرآن و حدیث کے خلاف دعویٰ نبوت کرے اور اپنے تئیں ...نعوذباللہ... حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل و برتر کہے اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلے، قرآن و سنت، اسلامی اقدار اور شعائر اسلام کا مذاق اڑائے، بتلایا جائے کہ موصوف اس کو بھی مسلمان کہیں گے یا کافر؟
بہرحال غامدی صاحب! دنیا اور دنیا کے مفادات ایک نہ ایک دن ختم ہوجائیں گے اور ہمیں زندگی بھر کے لمحے، لمحے کا حساب دینا ہوگا، ہماری زبان اور قلم سے جو کچھ نکلا ہے، ہمیں اس کا حساب دینا ہوگا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری یہ تحریریں ہمارے گلے کا طوق ثابت ہوں اور ہمیں بھی ان لوگوں کی ہمنوائی میں ان کے ساتھ کردیا جائے جو آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی تھے یا ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۰ ماہنامہ بینات , شعبان المعظم:۱۴۳۱ھ - اگست: ۲۰۱۰ء, جلد 73, شمارہ